مرکز کی نریندر مودی حکومت کی جانب سے مرکزی ایجنسیوں کے بیجا استعمال اور ان کے ذریعہ مخالفین کو دھمکانے اور خوفزدہ کرنے کے الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں۔ کئی مواقع پر اپوزیشن قائدین نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعہ ہراساں کیا جارہا ہے ۔ حکومت اس طرح سے مخالفین کو دبانے اور ان کی آواز کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ تحقیقاتی ایجنسیوں کے خوف سے جو قائدین بی جے پی میں شامل ہوجاتے ہیں انہیں کلین چٹ مل جاتی ہے ۔ انہیں تمام طرح کے مقدمات سے راحت بھی مل جاتی ہے ۔ تحقیقاتی ایجنسیاں بھی ان کے تعلق سے خاموشی اختیار کرلیتی ہیں۔ چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی نے بی جے پی کو اپوزیشن قائدین کا واشنگ مشین قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے جن قائدین پر الزامات اور مقدمات ہوتے ہیں وہ بی جے پی میں شامل ہوتے ہی تمام الزامات سے بری ہوجاتے ہیں۔اس کی مختلف مثالیں بھی موجود ہیں جب کئی سیاسی قائدین کو مقدمات اور تحقیقاتی ایجنسیوں سے اسی وقت راحت ملی جب انہوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ۔ آندھرا پردیش میں تلگودیشم کے تین ارکان راجیہ سبھا کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور جب انہوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تو تمام مقدمات برفدان کی نذر ہوگئے ۔ بنگال میں شردھا اسکام کی تحقیقات کے نام پر کئی قائدین کو نشانہ بنایا گیا ۔ ان میں بیشتر نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی اور پھر یہ تحقیقات بھی بند کردی گئیں۔ مہاراشٹرا میں برسر اقتدار اتحادی جماعت شیوسینا کے ایک رکن اسمبلی نے واضح بیان دیا تھا کہ شیوسینا کو ایک بار پھر بی جے پی سے اتحاد کرلینا چاہئے تاکہ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کی دہشت سے بچا جاسکے ۔ اور اب مہاراشٹرا میں کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہوئے سابق رکن اسمبلی نے بھی ایک بیان دیتے ہوئے اس سب کی توثیق کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت سے وہ بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں انہیں سکون کی نیند آ رہی ہے کیونکہ اب کوئی تحقیقات نہیں ہیں۔
بی جے پی میں شامل ہوئے لیڈر ہرش وردھن پاٹل کا یہ بیان خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خود بھی تحقیقاتی ایجنسیوں سے خوفزدہ ہوکر بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔ حالانکہ ہرش وردھن پاٹل اب یہ وضاحت بھی کر رہے ہیں کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے لیکن ان کی وضاحت شائد اتنی اثر دار ثابت نہیں ہو پائے گی ۔ ان کے بیان نے ساری حقیقت کو آشکار کردیا ہے ۔ کس طرح سے مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کا بیجا استعمال کرتے ہوئے انہیں سیاسی مخالفین کو خوفزدہ اور ہراساں کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ایک دن قبل ہی این سی پی سربراہ شرد پوار نے بھی یہ بیان دیا تھا کہ سی بی آئی ‘ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور منشیات کنٹرول بیورو جیسے مرکزی اداروں کا بیجا استعمال ہو رہا ہے اور مخالفین کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے ۔ ایسے حالات میں چار مرتبہ رکن اسمبلی رہے ہرش وردھن پاٹل کا بیان ساری صورتحال کو واضح کردیتا ہے ۔ جہاں کہیں بی جے پی کی مخالفت کی جائے یا حکومت سے اتفاق نہ کیا جائے وہاں اقتدار کا بیجا استعمال عام بات ہوتی جا رہی ہے ۔ حکومت سے اختلاف کرنے والوں کو قوم دشمنی اور ملک دشمنی اور غداری جیسے سنگین مقدمات میں پھانس کر الگ سے جیلوں میں بند کیا جا رہا ہے ۔ اختلاف رائے کا احترام کرنے کی روایت کو عملا ختم کردیا گیا ہے اور صرف اقتدار کی چاپلوسی کو قانون کی پاسداری کا نام دیا جانے لگا ہے جو جمہوری ہندوستان کی روایات اور ہماری سیاسی اقدار وغیرہ کے یکسر مغائر عمل کہا جاسکتا ہے ۔
ملک کی اعلی ترین عدالت سپریم کورٹ نے بھی بعض مواقع پر اشارتا کہا ہے کہ پولیس یا تحقیقاتی ایجنسیوں کو حکومتوں کے اشاروں پر کام نہیں کرنا چاہئے ۔ تحقیقاتی ادارے حکومت کو جوابدہ ضرور ہیں لیکن اس سے زیادہ ان کی ذمہ داری اپنے پیشے اور عہدہ سے انصاف کرنے کی اور عوام میں ان کے تعلق سے جو توقعات اور امیدیں ہوتی ہیں انہیں پورا کرنے کی ہوتی ہے ۔ مرکزی حکومت کو خود چاہئے کہ وہ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کا بیجا استعمال ترک کرے اور مخالفین کو نشانہ بنانے کا سلسلہ ختم کیا جائے ۔ ساتھ ہی تحقیقاتی ایجنسیوں کو خود اپنی ساکھ بچانے کیلئے پیشہ ورانہ دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔
