مرکزی بجٹ اور عوامی توقعات

   

Ferty9 Clinic

جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔ
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن کل منگل یکم فبروری کو پارلیمنٹ میںعام بجٹ پیش کرنے والی ہیں۔ یہ بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جبکہ ملک کی معاشی حالت مستحکم نہیں کہی جاسکتی ۔ معاشی اعتبار سے کئی مسائل ملک کو درپیش ہیں۔ عوام پر جس اعتبار سے مسلسل بوجھ عائد کرنے کا سلسلہ جاری ہے اس کو دیکھتے ہوئے اس بار عوام حکومت سے کئی توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ عوام کی امیدوں پر حکومت کس حد تک پوری اترتی ہے یہ تو کل بجٹ کی پیشکشی کے بعد ہی معلوم ہوگا ۔ حکومت نے بجٹ کی تیاری کیلئے مختلف گوشوں سے مشاورت کی ہے ۔ صنعتی حلقوں کی رائے بھی لی ہے ۔ ان سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے ۔ مختلف شعبوں کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا ہے ۔ تاہم عوام کی جو آج حالت ہوگئی ہے اس کو دیکھتے ہوئے حکومت کو ایسے کئی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جن سے عوام کو راحت مل سکے ۔ صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوسکے ۔ر وزگار کی فراہمی کا مسئلہ ایسا ہے جس پر حکومت کو خاص توجہ دینے کی ضرورت تھی ۔ یہ حقیقت ہے کہ مودی حکومت نے ملک میں عوام کو روزگار فراہمی کے مسئلہ پر بہت زیادہ مایوس کیا ہے ۔ نریندر مودی نے 2014 کے انتخابات سے قبل عوام سے دو کروڑ روزگار سالانہ فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے اقتدار حاصل کیا تھا ۔ سالانہ کروڑہا روزگار فراہم کرنا تو دور کی بات ہے کورونا کی دو لہروں کے دوران کروڑوں افراد روزگار سے محروم ہوگئے ہیں۔ ان کی ملازمتیں ختم ہوگئی ہیں۔ کئی شعبوں میں ملازمین کی تخفیف کی گئی ہے ۔ سرکاری ایجنسیوںاور کمپنیوں کو خانگی شعبہ کے حوالے کردیا گیا ہے اس طرح وہاں تقررات نہیں ہوسکتے ۔ موجودہ سرکاری شعبہ جات میں سرکاری تقررات پر عملا امتناع عائد کردیا گیا ہے ۔ حکومت کو بجٹ میں ایسی کچھ تجاویز پیش کرنے کی ضرورت ہے جن سے صنعتی شعبہ میں اور دوسرے شعبہ جات میں ملازمتیں دستیاب ہوسکیں۔ اس معاملے میں نوجوان حکومت سے بہت زیادہ امیدیں لگائے ہوئے ہیںحالانکہ گذشتہ سات سال کے دوران عوام کو روزگار کے مسئلہ پر مرکز کی نریندر مودی حکومت سے مایوسی ہی ہاتھ آئی ہے ۔
انکم ٹیکس کی حد میںاضافہ کے تعلق سے بھی عوام اور خاص طور پر تنخواہ یافتہ طبقہ میں زیادہ امیدیں ہیں۔ عوام کی توقعات یہ ہیں کہ انہیںانکم ٹیکس ادائیگی میں مزید کچھ راحت حاصل ہو تاکہ مہنگائی اور قیمتوں میں اضافہ کے نتیجہ میں انہیں جو مشکلات پیش آ رہی ہیں ان سے کچھ حد تک راحت مل سکے ۔ حکومت کو مہنگائی قابو میں کرنے کے اقدامات بھی کرنے چاہئیں۔ جس طرح سے ملک میں جی ایس ٹی کا نفاذ کیا گیا تھا اس کے نتیجہ میں کئی اشیا پر ٹیکس میں مسلسل اضافہ کیا جاتا رہا ہے ۔ بنیادی ضرورت اور استعمال کی اشیا کو جی ایس ٹی کے دائرہ میں شامل کرتے ہوئے وقفہ وقفہ سے جی ایس ٹی کے سلاب میں اضافہ کیا جاتا رہا ہے ۔ ادویات ہوں یا روز مرہ کے استعمال کی اشیا ہوں انہیں اقل ترین زمرہ میں شامل کرتے ہوئے عوام کو راحت دی جاسکتی ہے ۔ حکومت کو بجٹ میں اس کا بھی پورا خیال رکھنے کی ضرورت ہے ۔ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی کراری شکست کے بعد ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے گریز کیا گیا ہے ۔ اس سے قبل یومیہ مسلسل اضافہ کرتے ہوئے عوام پر لگاتار بوجھ عائد کیا گیا تھا ۔ کئی گوشوں سے اصرار ہو رہا ہے کہ پٹرولیم اشیا کو بھی جی ایس ٹی کے دائرہ کار میں لایا جائے تاکہ ان پر بھی ٹیکس کی ایک حد مقرر ہوجائے ۔ حکومت کو اس مسئلہ پر بھی اپنے موقف کو واضح کرنا چاہئے ۔ پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میں توازن اور استحکام برقرار رکھنے کیلئے ایک اثر دار میکانزم کم از کم عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہئے ۔
حکومت کی جانب سے کارپوریٹس اور بڑے تاجروں پر ٹیکس عائد کرنے میں بھی کوتاہی نہیں برتنی چاہئے ۔ حکومت نے کارپوریٹس اور بڑے تاجرین سے مشاورت کے ذریعہ ان کے جذبات و احساسات کو بھی بجٹ میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس کا خیال ضرور رکھا جانا چاہئے لیکن ان کو صرف مراعات کی فراہمی تک نہیں بلکہ محاصل بھی ان پر عائد کئے جانے چاہئیں۔ کسانوں کو بھی بجٹ میں راحت دینے کے تعلق سے حکومت کو کوئی منصوبہ یا پروگرام پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ کسانوں کو ممکنہ حد تک راحت پہونچاتے ہوئے زرعی شعبہ کی سرگرمیوں کو بحال کیا جانا چاہئے کیونکہ اسی پر جی ڈی پی میں بہتری کا انحصار ہے ۔