مرکزی بجٹ این ڈی اے کا ہے انڈیا کا نہیں

   

نئی دہلی: مرکزی بجٹ کو اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے لئے مایوس کن قرار دیتے ہوئے سماجی کارکن، دہلی پردیش کانگریس سوشل میڈیا کے چیرمین اور آئی آئی سی سی کے ایگزی کیوٹیو کمیٹی کے رکن کے امیدوار محمد ہدایت اللہ نے کہاکہ یہ ایک ایسا بجٹ ہے جس میں این ڈی اے توہے لیکن انڈیا (ہمہ جہت) نہیں ہے ۔ انہوں نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ جہا ں ایک طرف دو ریاستوں کو نوازا گیا ہے وہیں بیشتر ریاستوں کو بجٹ میں مایوس کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی سماج کے لئے تعلیم ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے لیکن تعلیمی بجٹ میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے یو پی اے حکومت میں جہاں تعلیم پر چار فیصد بجٹ تھا وہیں کم کرکے دو فیصد کردیا گیا ہے ۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ این ڈی اے حکومت کی تعلیم کے بارے میں کیا سوچ ہے ۔انہوں نے کہا کہ مودی کا معلنہ دربھنگہ ایمس کا پتہ نہیں ہے ۔ہدایت اللہ نے کہاکہ لوور مڈل کلاس اور لوور کلاس سب سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں انہیں راحت دینے کے بجائے اس پر مزید ٹیکس لاد دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اقلیتی اداروں کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے اور اقلیتی امور کی وزارت کا بجٹ جو پہلے چار ہزار کروڑ روپے تھا۔