وزیرفینانس تلگو بہو ہونے کے باوجود ریاست سے ناانصافی ہورہی ہے
حیدرآباد ۔ یکم ؍ فبروری (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ نے مرکزی بجٹ کو تلنگانہ کیلئے مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ تلگو بہو ہونے کے باوجود مرکزی وزیرفینانس نرملا سیتارامن نے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ مرکزی بجٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ انتخابات کے پیش نظر مرکزی حکومت نے بجٹ میں ریاست بہار کو نذرانہ پیش کیا ہے۔ بی جے پی بجٹ میں تلنگانہ سے جانبداری اختیار کرتے ہوئے سیاسی طور پر تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کررہی ہے تاکہ تلنگانہ کی جو ترقی کی رفتار ہے اس کو بریک لگایا جاسکے۔ مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کو مناسب بجٹ مختص نہ کرنے پر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اس کی سخت مذمت کرتی ہے۔ تلنگانہ کے اسمبلی انتخابات کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کے علاوہ بی جے پی کے دوسرے قائدین نے تلنگانہ کے عوام سے بلند بانگ دعوے کئے۔ انتخابات ختم ہوجانے کے بعد انہیں فراموش کردیا گیا ہے۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ مجموعی طور پر 50.65 لاکھ کروڑ روپیوں پر مشتمل مرکزی بجٹ پیش کیا مگر ملک میں تیز رفتار ترقی کرنے والی تلنگانہ ریاست کو بجٹ میں نظرانداز کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف تلنگانہ سے مرکزی حکومت کو 40 ہزار کروڑ روپئے کا جی ایس ٹی وصول ہوتا ہے مگر بجٹ میں تلنگانہ کو ایک نیا پیسہ مختص نہیں کیا گیا۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس کی حکومت ہونے کی وجہ سے بی جے پی نے بجٹ مختص کرنے سے انکار کردیا جبکہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی، ڈپٹی چیف منسٹر ملوبھٹی وکرامارک کے علاوہ ریاست کے دیگر وزراء دہلی پہنچ کر مرکزی وزراء سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست کو کئی پراجکٹس اور اسکیمات میں فنڈز فراہم کرنے کی نمائندگی کی ہے۔ تاہم ان تمام نمائندگیوں کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ تقسیم ریاست بل کے وعدوں کو بھی فراموش کردیا گیا۔ آر آر آر، میٹرو ریل، فورتھ سٹی، موسیٰ ندی کے علاوہ دوسرے پراجکٹس کو اہمیت نہیں دی گئی ہے۔2