مہنگائی میں کمی کے بجائے عوام پر زائد بوجھ، تلنگانہ ریاست قرض کے بوجھ میں غرق
حیدرآباد۔ 5 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں سابق قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے مرکزی بجٹ کو عام آدمی کے لیے مایوس کن اور صنعتی و دولت مند گھرانوں کے لیے فائدہ مند قراردیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ عوام نے نریندر مودی حکومت کی دوسری میعاد میں پیش کئے گئے بجٹ سے کافی توقعات وابستہ کی تھیں لیکن انہیں مایوسی ہوئی ہے۔ حکومت نے مہنگائی کے خاتمہ کا وعدہ کیا تھا لیکن نرملا سیتارامن کے بجٹ میں جو اعلانات کئے گئے وہ عوام پر زائد بوجھ عائد کرنے والے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ نریندر مودی نے ہمیشہ کی طرح دولتمند اور صنعتی گھرانوں کے مفادات کا خیال رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں بی جے پی کی مدد کرنے والے صنعتی گھرانوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے بجٹ تیار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انیل امبانی اور مکیش امبانی کو اس بجٹ سے فائدہ ہوگا جبکہ غریبوں اور عام آدمی کو سوائے محرومی کے کچھ ہاتھ نہیں لگا ہے۔ بجٹ کی تیاری میں مرکز نے عوام سے کئے گئے وعدوں کو فراموش کردیا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران صرف وعدوں کے ذریعہ عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی۔ اب جبکہ عوام نے دوسری میعاد کے لیے منتخب کیا، حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ وعدوں کی تکمیل پر مشتمل بجٹ تیار کرتی۔ لیکن پھر ایک بار مودی حکومت نے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ محمد علی شبیر نے کے سی آر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کسانوں کے قرض معافی کے وعدے اور رائیتو بندھو اسکیم پر حکومت کا موقف غیر واضح ہے۔ کے سی آر نے انتخابی مہم کے دوران کسانوں کے قرض معافی کا اعلان کیا تھا۔ حکومت کی تشکیل کے 7 ماہ گزرنے کے باوجود وعدے پر عمل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح رئیتو بندھو اسکیم کی امدادی رقم کسانوں کو جاری نہیں کی گئی۔ اسکیم کے دو اقساط جاری کئے گئے لیکن تیسری قسط کے لیے کسان منتظر ہیں۔ وہ سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خریف کا موسم شروع ہوچکا ہے لیکن حکومت نے ابھی تک کھاد اور بیج کی سربراہی عمل میں نہیں لائی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر دورحکومت میں نوجوان، مزدور اور بے روزگار افراد کو دھوکہ ہوا ہے۔ گزشتہ چھ برسوں میں اساتذہ کے تقررات کے لیے ایک بھی ڈی ایس سی منعقد نہیں کیا گیا۔ ریاست میں چار ہزار سے زائد اسکولس اساتذہ کی کمی کے باعث بند ہونے کے قریب ہیں۔ کے سی آر نے ریاست کو قرض میں ڈبودیا ہے۔ تلنگانہ کی تشکیل سے قبل ریاست کا قرض 68 ہزار کروڑ تھا جو پانچ برسوں میں بڑھ کر 1 لاکھ 80 ہزار کروڑ تک پہنچ چکا ہے۔ پراجیکٹس کی تکمیل کے نام پر بھاری قرض حاصل کرنے والے کے سی آر اس بات کی وضاحت کریں کہ عوام پر بوجھ عائد کیئے بغیر قرض کس طرح ادا کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ گرام پنچایتوں کو ابھی تک فنڈس جاری نہیں کئے گئے جس کے تحت ترقیاتی کام متاثر ہیں۔ محمد علی شبیر نے مجوزہ بلدی انتخابات میں کانگریس پارٹی کے بہتر مظاہرے کی امید ظاہر کی اور کہا کہ بنیادی سطح پر کانگریس مستحکم ہے۔
