حیدرآباد۔/2فروری، ( سیاست نیوز) وزیر سیول سپلائیز اتم کمار ریڈی نے مرکزی بجٹ 2025-26 کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مخالف کسان اور مخالف غریب بجٹ قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی زیر قیادت مرکزی حکومت نے تلنگانہ کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی اور بہار کے انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرکزی بجٹ تیار کیا گیا اور تلنگانہ کے علاوہ غیر الیکشن والی ریاستوں کو نظرانداز کردیا گیا۔ وزیر فینانس نرملا سیتا رامن نے ممتاز تلگو شاعر گروجاڑا اپاراؤ کے اشعار سے بجٹ کا آغاز کیا جس میں کہا گیا ہے کہ دیش کا مطلب محض مٹی نہیں بلکہ انسان ہوتے ہیں۔ نرملا سیتا رامن نے تلگو شاعر کے شعر کا استعمال کیا لیکن بجٹ کی تیاری میں تلگو ریاست کو فراموش کردیا گیا۔ بی جے پی حکومت نے سیاسی مقصد براری کیلئے بہار اور دہلی کیلئے فنڈز مختص کئے ہیں۔ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون کا حوالہ دیتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ بیارم اسٹیل فیکٹری، قاضی پیٹ ریلوے کوچ فیکٹری، ٹرائیبل یونیورسٹی، پالمور رنگاریڈی پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کا درجہ اور انفارمیشن ٹکنالوجی انوسٹمنٹ ریجن کی حیدرآباد میں تشکیل کے وعدے کئے گئے تھے لیکن دس سال گذرنے کے باوجود ان وعدوں کی تکمیل نہیں کی گئی۔ ریاستی وزیر نے کہا کہ بی جے پی نے ہمیشہ کی طرح الیکشن کو پیش نظر رکھتے ہوئے بہار اور دہلی کیلئے بجٹ کو پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ بے نقاب ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کیلئے اہمیت کے حامل پالمور رنگاریڈی لفٹ اریگیشن پراجکٹ کو نظرانداز کرنا افسوسناک ہے۔ بجٹ کو مخالف کسان قرار دیتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ کسانوں کی پیداوار کیلئے اقل ترین امدادی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ پرائم منسٹر دھن دھانیا کرشی یوجنا کے تحت ملک کے 100 اضلاع کا انتخاب کیا گیا جس میں تلنگانہ کے اضلاع شامل نہیں ہیں۔ حیدرآباد ملک کا تیزی سے ترقی پذیر میٹرو شہر ہے لیکن مرکزی بجٹ میں حیدرآباد کے پراجکٹس کیلئے فنڈز منظور نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نظام تقسیم اور دیگر فلاحی اسکیمات کیلئے فنڈز مختص نہیں کئے گئے جس کے نتیجہ میں مہنگائی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ2014 سے مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کے ساتھ مسلسل ناانصافیوں کا سلسلہ جاری ہے اور یہ تلنگانہ کے ساتھ نریندر مودی کے نفرت کے جذبہ کو ظاہر کرتا ہے۔1