اسکالر شپ اور اسکل ڈیولپمنٹ کیلئے بجٹ نہیں، محمد علی شبیر کا ردعمل
حیدرآباد۔/2فروری، ( سیاست نیوز) سینئر کانگریس لیڈر اور حکومت کے مشیر برائے اقلیت و کمزور طبقات محمد علی شبیر نے مرکزی بجٹ 2025-26 پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت نے اقلیتی بہبود کو نظرانداز کردیا ہے۔ بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ گذشتہ دس برسوں میں مرکزی بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے مناسب فنڈز مختص نہیں کئے گئے۔ نئے بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے محض 3350 کروڑ مختص کئے گئے جو گذشتہ سال کے 3182 کروڑ بجٹ میں معمولی اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت مخالف اقلیت رویہ پر قائم ہے اور 50.47 لاکھ کروڑ کے مرکزی بجٹ میں اقلیتی بہبود کی حصہ داری محض 0.066 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کیلئے 678 کروڑ مختص کئے گئے جو ملک کیلئے ناکافی ہیں۔ اقلیتوں کی مختلف اسکالرشپ اور فیلو شپ اسکیمات کو ختم کردیا گیا۔ پری میٹرک اسکالر شپ کے بجٹ کو 326 کروڑ سے گھٹا کر 195.70 کروڑ کردیا گیا۔ پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کیلئے343 کروڑ میں اضافہ کرتے ہوئے 413 کروڑ مختص کئے گئے جو معمولی اضافہ ہے۔ میرٹ کم مینس اسکالر شپ کی رقم کو33.80 کروڑ سے گھٹا کر7.34 کروڑ کیا گیا ہے۔ مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ کے بجٹ کو42.84 کروڑ تک گھٹادیا گیا۔ اقلیتوں کیلئے مفت کوچنگ اور دیگر اسکیمات کے لئے محض 10 کروڑ مختص کئے گئے۔ محمد علی شبیر نے اقلیتوں کیلئے اسکل ڈیولپمنٹ اور معاشی ترقی کی اسکیمات کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئی منزل اور لیڈر شپ ڈیولپمنٹ پروگرام برائے خواتین کیلئے کوئی فنڈ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے گذشتہ دس برسوں میں اقلیتی بہبود کو نظرانداز کردیا۔ یو پی اے دور حکومت میں اقلیتی بہبود کا بجٹ 3.31 کروڑ تھا۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسکالر شپ، فیلو شپ اور اسکل ڈیولپمنٹ پروگراموں کے بجٹ میں اضافہ کرے۔1