کوروناوائرس کی تیسری لہر کب آسکتی ہے؟ کیا اس سے بچوں پر اثر پڑے گا؟ ان سوالات پر دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کے ڈائریکٹر ، ڈاکٹر رندیپ گلیریا کا کہنا ہے کہ انسانی سلوک ان لاک ہونے کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے اور پھر ایک نئی لہر پیدا ہوتی ہے۔ بچوں کے بارے میں انہوں نے کہاہے کہ اب تک کہیں سے کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں ، ایسے کوئی عالمی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں جس سے بچے اس سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ نیتی آیوگ کے ممبر ڈاکٹروی کے پال نے کہاہے کہ مرکزی حکومت نے 74 کروڑ ویکسین کی خوراکوں کی خریداری کا حکم جاری کیا ہے۔ ڈاکٹر گلیریا نے کہا کہ اب تک دنیا میں بچوں میں کوویڈ کے سنگین انفیکشن کے کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔عالمی اعداد و شمار کو دیکھنے کے بعد بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کورونا کی اگلی لہر میں بچوں کو زیادہ خطرہ ہے۔