ہے یہ بھی لطیفہ مرا قد ناپنے والے
بونے ہیں جو کچھ ریت کے ٹیلوں پر کھڑے ہیں
مرکزی حکومت نے کل اچانک ہی کھیلوں کی دنیا کے اعلی ترین ایوارڈ راجیوگاندھی کھیل رتن کا نام بدل کر میجر دھیان چند کھیل رتن ایوارڈ کردیا ہے ۔ مرکزی حکومت کا یہ فیصلہ اس کے اپنے جواز کے اعتبار سے چاہے جیسا بھی کہا جائے لیکن یہ حقیقت دکھائی دیتی ہے کہ یہ فیصلہ در اصل انتقامی جذبہ کے ساتھ کیا گیا ہے ۔ جس وقت سے یہ ایوارڈ شروع کیا گیا تھا اس کا نام سابق وزیر اعظم آنجہانی راجیو گاندھی کے نام پر رکھا گیا تھا ۔ مرکزی حکومت کا یہ کہنا تھا کہ چونکہ یہ کھیلوں کی دنیا کا ایوارڈ ہے اس لئے کھلاڑیوں کے نام پر ہونا چاہئے ۔ یہ ایک بچکانہ سا جواز ہے جس کو قبول کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے ۔ اس جواز کے ذریعہ مرکزی حکومت اپنے انتقامی جذبہ کو چھپا نہیں سکتی ۔ اگر اسی پیمانے پر کھیلوں کے نام رکھے جانے ہیں تو پھر حکومت کو یہ وضاحت کرنے کی ضرورت ہے کہ چند ماہ قبل ہی احمد آباد کے موتیرا اسٹیڈیم کا نام بدل کر نریندر مودی اسٹیڈیم کیوں رکھ دیا گیا تھا ؟ ۔ جس طرح راجیو گاندھی ایک سیاسی لیڈر تھے اور ایک جماعت کے سربراہ تھے اسی طرح نریندرمودی بھی سیاسی لیڈر ہیں۔ نریندر مودی کا بھی کھیلوں سے کوئی تعلق نہیںہے اور نہ ہی وہ کھلاڑی رہے ہیں۔ ایسے میں جب ایک پہلے سے موجود اسٹیڈیم کا نام بدل کر ان کے نام پر رکھا جاسکتا ہے تو پھر پہلے سے موجود ایک ایوارڈ کا نام ملک کے ایک سیاسی لیڈر اور سابق وزیر اعظم کے نام پر کیوں برقرار نہیں رکھا جاسکتا ۔ جس طرح بی جے پی نے نعرہ دیا تھا کہ وہ کانگریس مکت بھارت بنانا چاہتی ہے ویسے ہی لگتا ہے کہ بی جے پی کی زیر قیادت نریندر مودی حکومت ملک بھر سے کانگریس سے تعلق رکھنے والے قائدین کے ناموں کو بھی ختم کرنا چاہتی ہے ۔ جس جذبہ کے ساتھ راجیو گاندھی کھیل رتن ایوارڈ کا نام بدلا گیا ہے اس کا ہندوستانی سیاست میں کوئی جواز نہیںہوسکتا اور نہ ہی ایسے انتقامی جذبہ کے ساتھ حکومتوں کو کام کرنا چاہئے ۔ ہماری ایک اجتماعی جمہوریت ہے اور یہاںمختلف جماعتوں کو مختلف مواقع پرا قتدار ملا ہے اور سبھی حکومتوں نے اپنے اپنے طور پر اپنے اپنے وقت میں ملک کی ترقی اور عوام کی بہتری کیلئے کام کیا ہے ۔
جہاں تک راجیو گاندھی کا سوال ہے تو یقینی طور پر وہ کانگریس کے لیڈر تھے لیکن انہیں ایک کانگریس لیڈر کے طور پر نہیں بلکہ ملک کے سابق وزیر اعظم کے طور پر دیکھنے کی ضرورت تھی ۔ یہ کوئی شخصیت تک محدود ایوارڈ نہیں تھا ۔ راجیو گاندھی نے بھی ملک کی ترقی اور عوام کی بہتری کیلئے کافی کچھ کیا تھا ۔ انہوں نے ملک میں انفارمیشن ٹکنالوجی کی بنیادیں رکھی تھیں۔ تعلیم کے شعبہ میں اصلاحات کیلئے انہوں نے کافی اقدامات کئے تھے ۔ وہ ہندوستان کے وزیر اعظم تھے کانگریس پارٹی کے وزیر اعظم نہیں تھے ۔ جس طرح نریندر مودی صرف بی جے پی کے وزیر اعظم نہیں بلکہ سارے ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ ملک کے کسی بھی سابق لیڈر کو ان کی شخصیت سے نہیں بلکہ ملک کیلئے ان کی خدمات سے پہچانا جاتا ہے ۔ ہندوستان کو آزادی کے سات دہے پورے ہوچکے ہیں اور ان سات دہوں میں قائم ہونے والی تقریبا تمام حکومتوں نے ملک کی ترقی کیلئے اپنے اپنے طور پر موثر اقدامات کئے ہیں۔ ایسے ہی راجیو گاندھی نے بھی اپنے دور حکومت میں کئی کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں۔ ایسے میں اگر ایک ایوارڈ کو ان کے نام سے موسوم کیا گیا تھا تو اس پر بی جے پی زیر قیادت حکومت کو چراغ پا ہونے کی ضرورت نہیں تھی ۔ مرکزی حکومت کو تنگ نظری سے کام نہیں کرنا چاہئے بلکہ فراخدلانہ جذبہ کے ساتھ کام کرتے ہوئے سابقہ قائدین کو خراج پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہی ہندوستان کی روایت رہی ہے اور یہی ہمارا قدیم ورثہ بھی ہے ۔
اصل بات صرف ایک ایوارڈ کا نام بدل کر رکھنے کی نہیں ہے بلکہ جس جذبہ کے تحت ایسا کیا گیا ہے اس کو قابل قبول نہیں کہا جاسکتا ۔ آج ہندوستان میں بے شمار یادگاریں اور بے شمار عمارتیں اور ایوارڈز وغیرہ ہمارے قومی قائدین کے نام پر ہیں جنہوں نے ملک کیلئے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ایسے میں اگر ہر شعبہ میں صرف متعلقہ شخصیتوں کے نام رکھنے کا ہی پیمانہ بنالیا جائے تو پھر کئی نام بدلنے پڑیں گے ۔ ہمیں اس پیمانے کو روایت نہیں بنانا چاہئے ۔ ایک وفاقی جذبہ کے ساتھ اجتماعی جمہوریت کی روایت ہماری پہچان رہی ہے اور ہمیں اسی کو آگے بڑھانے کے جذبہ کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔
بیروزگار نوجوانوں کی خودکشیاں
ملک میں بیروزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ کچھ ریاستیں اپنے طور پر اقدامات کے ذریعہ اس مسئلہ پر کسی حد تک قابو پانے میں کامیاب رہی ہیں لیکن قومی سطح پر اس شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور تشویشناک بات یہ ہے کہ بیروزگار نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بھی بڑھتا جارہا ہے ۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ چند ماہ کے عرصہ میں بیروزگار نوجوانوں کی خود کشی کے تناسب میں 24 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے ۔ ایک طرف حکومتیں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے بلند بانگ دعوے کرتی جا رہی ہیںلیکن حقیقت میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے ۔ جس طرح بیروزگاری بڑھتی جا رہی ہے اسی طرح خود کشی کے رجحان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس پر قابو پانے کیلئے مرکزی حکومت کو جامع پالیسی تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔خاص طور پر نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے پر توجہ کی جانی چاہئے ۔ بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ملک کی معیشت کے منفی رجحان کا بھی عکاس ہے ۔ حکومت کو بحیثیت مجموعی معیشت کو مستحکم کرنے کے حقیقی اقدامات کرنے پر توجہ کرنی چاہئے صرف دکھاوے کے اعلانات سے بات نہیں بنے گی ۔
