وزارت صحت کے احکام جاری ۔ دیگر ادویات تجویز کرنے پر سخت سزا کی تجویز
حیدرآباد 16مئی(سیاست نیوز) حکومت نے مرکزی حکومت کے تحت چلائے جانے والے دواخانوں‘ سی جی ایچ ایس ویلنیس سنٹرس اور پالی کلینکس میں برسر خدمت ڈاکٹرس کو انتباہ دیا کہ وہ جنرک میڈیسن کے علاوہ کوئی اور ادویات تجویز نہ کریں اور اگر وہ مریضوں کو جنرک میڈیسن کی بجائے دیگر ادویات تجویز کرتے ہیں تو ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ 12مئی کو مرکزی وزارت صحت سے جاری احکامات میں ڈائرکٹر جنرل ہیلت سروسیس ڈاکٹر اتول گوئل نے مرکزی حکومت کے تمام اداروں کے ذمہ داروں کو یہ احکام جاری کئے اور کہا کہ حکومت کی جانب سے جنرک میڈیسن اور علاج کو قابل دسترس بنانے اقدامات کو یقینی بنانے یہ احکام جاری کئے جا رہے ہیں اور ان کی اجرائی کے بعد اگر کسی دواخانہ ‘ ویلنیس سنٹر اور پالی کلینک کے ڈاکٹر یا ریسڈینٹ ڈاکٹرس جنرک میڈیسن کے علاوہ دیگر ادویات تجویز کرتے ہیں ہیں تو ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ انہو ںنے بتایا کہ ملک کی تمام ریاستوں میں دواخانوں اور کلینکس میں جنرک میڈیسن کے فروغ کے طور پر جاری ان احکامات کا مقصد کارپوریٹ فارما کمپنیوں کے نمائندوں کو دواخانوں میں اپنی ادویات کی تشہیر سے روکنا ہے ۔ ان احکامات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو ڈاکٹرس نئی ادویات کے متعلق آگہی حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ ای۔ میل کے ذریعہ حاصل کرسکتے ہیں اور کسی بھی ادویات ساز کمپنی کے نمائندہ کو دواخانہ یا پالی کلینک میں داخلہ و تشہیر کی اجازت نہیں ہوگی ۔ م