احباب کی بلندی اخلاق دیکھ کر
دشمن بھی ہوگیا ہے پشیمان کبھی کبھی
موجودہ مرکزی حکومت میں ایسا لگتا ہے کہ وزراء اقتدار کے نشہ میںجمہوری اور سماجی زندگی کے اقدار اور عوامی زندگی میںاستعمال کی جانے والی زبان اور لب و لہجہ کو فراموش کرچکے ہیں۔ مرکزی وزراء اپنی زبان کو لگام دینے کی بجائے اس کا بیجا استعمال کرتے ہوئے اپنے عہدو ں کا وقار مجروح کر رہے ہیں۔سیاسی مخالفین کو ہندوستان میںہمیشہ ہی عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے ۔ سیاسی اور سماجی زندگی میںمخالفین کو بھی سارے نظام کا اٹوٹ حصہ سمجھا گیا ہے ۔ ہندوستان کی آزادی کے سات دہوں میںجمہوریت کو جو استحکام حاصل ہوا ہے وہ سیاسی مخالفین کی عزت و احترام کی برقراری کا ہی نتیجہ ہے ۔ سیاسی مخالفین کو محض مخالف سمجھا جاتا رہا ہے اور انہیںدشمن کبھی نہیںسمجھا گیا ۔ ان کی رائے اور تجاویز کا ہمیشہ ہی احترام کیا گیا ہے ۔ اگر ان کی تجاویز و احترام کو قبول نہ بھی کیا گیا ہو تو ان کو عزت و وقار کے ساتھ مسترد کیا گیا ہے ۔ مخالفین کو دشمن کی نظرسے دیکھنا اور ان کے تعلق سے دشمن کی طرح کی زبان استعمال کرنا ایک نیا رجحان بنتا جا رہا ہے ۔ کہیںسیاسی مخالفین کو غدار اورقوم دشمن قرار دیا جا رہا ہے تو کہیں حکومت کی مخالفت کرنے والوںکو بیرونی ممالک کے ایجنٹ قرار دیا جا رہا ہے ۔ کہیں کسی چیف منسٹر کو تھپڑ رسید کرنے کی بات کی جا رہی ہے تو کہیں ایک مخصوص پارٹی کو ووٹ نہ دینے والوںکو حرام زادے کہا جاتا ہے ۔ کہیںکوئی سیاسی لیڈر ایک مخصوص طبقہ کے خلاف ناشائستہ ریمارک کرتا ہے تو کوئی رکن پارلیمنٹ اس سے بھی آگے بڑھ کر زبان درازی کرتا ہے ۔ کہیں عوام کے درمیان پہونچ کر گولی مارو جیسے نعرے لگائے جاتے ہیں اور عوام کو غدار قرار دیا جاتا ہے ۔ ملک کی کسی جامعہ میں حکومت کی مخالفت کرنے والے طلبا اور طلباء قائدین کے خلاف ملک سے غداری کے مقدمات درج کردئے جاتے ہیں۔ یہ سارا کچھ اپوزیشن اور مخالفین کے وجود کو برداشت نہ کرنے کا ثبوت ہے ۔ عوامی اور سیاسی زندگی میںمخالفت عام بات ہے اور اب تک مرکز میںقائم ہونے والی تقریبا ہر حکومت نے مخالفین کی عزت و وقار کو مجروح نہیںکیا ہے اور ان کی اہمیت اور افادیت کو تسلیم بھی کیا ہے ۔
تاہم موجودہ مرکزی حکومت میںاپوزیشن اور مخالفین کو برداشت نہ کرنے کا رجحان سا چل پڑا ہے ۔ مرکزی وزیر نارائن رانے کی جانب سے ایک ریاست کے عوام کے ووٹ سے منتخب چیف منسٹر کو تھپڑ رسید کرنے کا ریمارک کیا جاتا ہے ۔ یہ ریمارک عوامی اور سیاسی زندگی میںانتہائی نازیبا کہا جاسکتا ہے ۔ سیاسی مخالفت یا چیف منسٹر پر تنقید کرنے کا ہر ایک کو حق حاصل ہے ۔ تاہم یہ اختلاف ایک سطح سے نیچے نہیںہونا چاہئے ۔ زبان اور لب و لہجہ کا خاص طور پر خیال رکھا جانا چاہئے ۔ سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی میں نہیں بدلا جانا چاہئے ۔ ذاتی اختلافات کو سماجی اختلاف کی وجہ بھی نہیں بنایا جانا چاہئے ۔ اختلافات کا بھی ایک معیار ہونا چاہئے اور معیار کو برقرار رکھتے ہوئے ہر سطح پر مخالفت کی جاسکتی ہے ۔ تنقیدوں کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔ خامیوںکو اجاگر کرتے ہوئے انہیںعوام کے درمیان لایا جاسکتا ہے ۔ یہ سارا کچھ جمہوری نظام کا حصہ ہے ۔ ہندوستان میںایک مستحکم اور مضبوط جمہوریت ہے ۔ ہماری جمہوریت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی ہے اور اس کے استحکام کو برقرار رکھنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے ۔ جمہوری اقدار کا پاس و لحاظ کرنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری عوامی اور دستوری عہدوں پر فائز افراد کی زیادہ ہوجاتی ہے ۔ اگر انہیںعہدوں پر فائزافراد ہی اختلافات کے بنیادی اصولوں کوفراموش کردیں اور ذاتی اور شخصی دشمنی پر اتر آئیں تو یہ جمہوری اصولوںکی اور ہندوستان کے سیاسی و سماجی ڈھانچہ کے اصولوںکی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔
نارائن رانے کو اگر چیف منسٹر مہاراشٹرا ادھو ٹھاکرے سے ناراضگی ہے تو یہ ان کا حق ہے ۔ انہیں چیف منسٹر کی مخالفت کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے ۔ چیف منسٹر کی خامیوں اور نقائص کو پیش کرنے کا وہ پورا حق رکھتے ہیں لیکن انہیں عوامی زندگی کے اصولوںاور اقدار کی پاسداری بھی رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ سیاسی مخالفت کی بنیاد پر غیرشائستہ زبان کا استعمال کرنا اور تھپڑ مارنے جیسے ریمارک کرنا ایک مرکزی وزیر کو ذیب نہیںدیتا ۔ ہر سیاسی قائد کو چاہے وہ کسی بھی جماعت سے وابستہ ہو سیاسی اقدار و اخلاقیات کو متاثر کئے بغیر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ذمہ دار عوامی عہدوں پر فائز افراد پر یہ ذمہ داری زیادہ ہوجاتی ہے ۔ انہیںاپنے عہدوں کا وقار مجروح کرنے سے حتی المقدور گریز کرنا چاہئے ۔