مرکزی وزیر پیوش گوئل نے ہلدی بورڈ کا ورچول افتتاح کیا،وزیراعظم نریندر مودی کے انتخابی وعدے کو پورا کیا گیا ، پی گنگا ریڈی ہلدی بورڈ کے صدر نشین نامزد

   

حیدرآباد۔ 14۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : مرکزی وزیر کامرس و صنعت پیوش گوئل نے آج دہلی سے ورچول انداز میں نظام آباد ہیڈکوارٹر پر ہلدی بورڈ کا افتتاح کیا ۔ اس موقع پر بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈی اروند بھی موجود تھے ۔ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ بنڈی سنجے نے بھی اس پروگرام میں ورچول حصہ لیا ۔ نیشنل ہلدی بورڈ کے صدر نشین کی حیثیت سے بی جے پی قائد پی گنگا ریڈی کا انتخاب کیا گیا جن کی میعاد تین سالہ ہوگی ۔ اس موقع پر خظاب میںمرکزی وزیر پیوش گوئل نے کہا کہ پارلیمانی انتخابات میں وزیراعظم مودی نے نظام آباد کے کسانوں سے ہلدی بورڈ قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ سنکرانتی تہوار کے موقع پر مرکز نے اس وعدے کو پورا کردیا ہے ۔ پیوش گوئل نے ملک بھر کی تمام ریاستوں بشمول تلنگانہ ، آندھرا پردیش اور مہاراشٹرا میں مختلف ناموں سے سنکرانتی منانے والے عوام کو مبارکباد دی ۔ پیوش گوئل نے کہا کہ ہلدی بورڈ تلنگانہ ، مہاراشٹرا ، کرناٹک اور میگھالیہ کے بشمول 20 ریاستوں کے ہلدی اگانے والے کسانوں کو بڑا تحفہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی جو بھی وعدے کرتے ہیں ان کو پورا کرتے ہیں چاہے وہ کشمیر میں سرنگ ہو یا کسانوں کی فلاح و بہبود ، ترقیاتی اسکیمات ، یا اسٹارٹ اپ کمپنیوں کیلئے مراعات تمام وعدے پورے کیے جارہے ہیں ۔ دنیا کے 19 ممالک نے وزیر اعظم مودی کو اپنے اعلیٰ ترین شہری اعزازت سے نوازا ہے ۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ میں ہلدی کو زرد سونا کہا جاتا ہے ۔ ہلدی کی کاشت کے لیے ہلدی بورڈ کسانوں کیلئے معاون و مددگار ثابت ہوگا ۔ پیوش گوئل نے کہا کہ گذشتہ سال 3 لاکھ ہیکٹر پر کاشت ہوئی اور 11 لاکھ ٹن ہلدی کی پیداوار ہوئی تھی ۔ ہر ریاست میں ہلدی کی مختلف اقسام کی کاشت کی جاتی ہے ۔ اس طرح ملک بھر میں ہلدی کی 30 اقسام کی کاشت کی جارہی ہیں اور انہیں GI Tag بھی دیا جارہا ہے ۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں اہم اقسام کی کاشت ہوتی ہے ۔ اس لیے یہاں بورڈ قائم کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہلدی فصل کی نئی اقسام اور ویلیو ایڈیشن پر تحقیق کرتے ہوئے برآمدات کی جائیں گی ۔ ہلدی کے استعمال کیلئے بڑے پیمانے پر تشہیر کی جائے گی ۔ کسانوں کی کاشت میں اضافہ کرنے کے ساتھ ، سپلائی چین اور انفراسٹرکچر کو ترقی دینے مرکزوسیع تر اقدامات کرے گی۔۔ 2