مرکزی و ریاستی محکموں سے جی ایچ ایم سی کو 5 ہزار کروڑ روپئے پراپرٹی ٹیکس باقی

   

بلدیہ کو جملہ 11 ہزار کروڑ روپئے جائیداد ٹیکس باقی، اگر سرکاری ادارے باقی رقم دے دیں تو قرض ختم ہوسکتا ہے
حیدرآباد۔ 25 فروری (سیاست نیوز) جی ایچ ایم سی کی جانب سے ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے مختلف محکموں کو دو دن پہلے ڈیمانڈ نوٹس جاری کرتے ہوئے 5,000 کروڑ روپئے کے پراپرٹی ٹیکس ادا کرنے کا حکم دیا۔ مرکزی حکومت کے 15 اور ریاستی حکومت کے 18 ڈپارٹمنٹس کو یہ نوٹسیں جاری کئے گئے ہیں۔ مرکزی حکومت کے محکموں میں ریلوے، بی ایس این ایل، انکم ٹیکس کے علاوہ دیگر محکمہ جات کی جائیدادوں سے 400 کروڑ روپئے پراپرٹی ٹیکس وصول طلب ہیں۔ جبکہ محکمہ ریلوے سے 110 کروڑ روپئے کے ساتھ سرفہرست ہے۔ ریاست سے متعلق محکمہ جات میں ہیلتھ، ایجوکیشن، الیکٹریکل، پولیس ڈپارٹمنٹ کے جملہ 2 ہزار جائیدادوں کے بقایاجات 4,600 کروڑ روپئے وصول طلب ہیں۔ ان محکموں کو جی ایچ ایم سی سرکل دفاتر سے مسلسل نوٹس روانہ کرنے کے باوجود کوئی جواب حاصل نہ ہونے پر جی ایچ ایم سی کمشنر کے نام سے ہیڈآفس سے ڈیمانڈ نوٹس جاری کی گئی۔ مرکزی حکومت کے محکموں سے سالانہ تقریباً 20 کروڑ روپئے تک ٹیکس ادا کیا جارہا ہے۔ جبکہ ریاستی حکومت کے محکموں سے گزشتہ 10 سال میں صرف 34 کروڑ روپئے ٹیکس ادا کیا گیا۔ جی ایچ ایم سی نے شہر میں ترقیاتی کاموں کیلئے تقریباً 6,300 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو محکمہ جات کی جانب سے اگر ٹیکس ادا کیا جاتا ہے تو بڑی حد تک جی ایچ ایم سی پر قرض کا بوجھ کم ہوجائے گا اور شہر حیدرآباد کی ترقی کیلئے راہ ہموار ہوجائے گی۔ بلدیہ کو مزید قرض کے دلدل میں پھنسنا بھی نہیں پڑے گا۔ ایک ہفتہ سے گریٹر حیدرآباد میں پراپرٹی ٹیکس ادا کرنے والوں کے خلاف بلدیہ کارروائی کررہا ہے۔ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کی جائیدادوں کو ضبط کیا جارہا ہے۔ اس طرح جی ایچ ایم سی کو جملہ 11 ہزار کروڑ روپئے پراپرٹی ٹیکس وصول طلب ہے جس میں آدھا ٹیکس تو ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے مختلف ڈپارٹمنٹس سے وصول باقی ہے۔ 2