اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے
بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے
دارالحکومت دہلی کے جنترمنتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج چل رہا ہے ۔ تقریبا ایک ماہ ہونے والا ہے اس احتجاج کو شروع ہوئے اس کے باوجود مرکزی حکومت کی جانب سے اس احتجاج کا نوٹ تک نہیں کیا جا رہا ہے اور ملک کے نوجوانوں اور طلباء کے تعلق سے اس قدر بے حسی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے کہ سب کو حیرت ہونے لگی ہے ۔ جو احتجاج پرامن انداز میںشروع ہوا تھا اب وہ بے چینی پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔ ماحولیاتی جہد کار سونم وانگ چوک نے اس احتجاج کی تائید میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی ۔ اس بھوک ہڑتال کو بھی 19 دن ہوچکے ہیں ۔ سونم وانگ چوک کی حالت ابتر ہونے لگی ہے ۔ ان کا تقریبا 9 کیلو وزن کم ہوچکا ہے ۔ کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ ان کی جو حالت ہے اگر فوری انہوں نے بھوک ہڑتال ختم نہیں کی تو شائد وہ آئندہ 48 گھنٹوں بعد زندہ بھی نہیں بچ پائیں گے ۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس کے نتیجہ میں طلباء اور نوجوانوں میں بے چینی پیدا ہونے لگی ہے اور یہ احتجاج شائد ملک کے دوسرے شہروں تک بھی پہونچنے لگے اور کئی شہروں میںنوجوانوں کی جانب سے احتجاج کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ ملک کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد نے سونم وانگ چوک سے اظہار یگانگت کیا ہے اور ان سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال کو ختم کردیں اور اپنی زندگی بچائیں کیونکہ حکومت پرا س کا اثر نہیں ہو رہا ہے ۔ حکومت ملک کے نوجوانوںاور طلباء کے تعلق سے آنکھیںموند چکی ہے ۔ جب نیٹ پرچہ کے افشاء کے بعد 13 طلباء نے خود کشی کرلی تب حکومت پر اثر نہیںہوا اور اس نے ان اموات کا ذکر تک نہیں کیا تو سونم وانگ چوک کے تعلق سے حکومت کے فکرمند ہونے کے امکانات بھی کم ہی ہیں۔ اس کے باوجود سونم وانگ چوک جب تک حکومت ان کے مطالبات کا نوٹ نہیں لیتی یا بات چیت نہیںکرتی اس وقت تک بھوک ہڑتال ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ جنتر منتر پہونچ کر ان سے اپیل کر رہے ہیں تو کچھ آن لائین اپیل کر رہے ہیں۔
جہاں تک مرکزی حکومت کا سوال ہے تو اسے تو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں رہ گئی ہے کہ کون جیتا ہے اور کون مرتا ہے ۔ ملک کے طلباء کے مستقبل سے کھلواڑ ہوتا رہے ۔ عوام مسائل سے پریشان ہوتے رہیں۔ نوجوانوں کی خواہشات بھلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائیں حکومت اپنے اقتدار کے زعم میں مبتلا ہے اور وہ کسی کو بھی خاطر میں لانے تیار نہیں ہے ۔ حکومت کا رویہ ابتداء ہی سے اسی ہٹ دھرمی والا رہا ہے ۔ حکومت اور اس کے وزراء کیلئے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل کچھ ہے تو اقتدار ہے اور کرسی ہے ۔ کسی کی زندگی کی انہیںکوئی فکر اور پرواہ نہیںرہ گئی ہے ۔ یہ بے حسی والا رویہ ایسا لگتا ہے کہ اب نوجوانوں میں بے چینی کی کیفیت پیدا کرنے لگا ہے اور اس تعلق سے سوشیل میڈیا پر اور جہاںموقع ملے نوجوان اور طلباء اپنے خیالات کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ یہ اندیشے ضرور پیدا ہو رہے ہیں کہ یہ بے چینی کی کیفیت غم و غصہ میں بھی بدل سکتی ہے ۔ حکومت کو اس بات کا احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ طلباء اور نوجوان ملک کا مستقبل ہیں اور ملک کے ہر شہری کی زندگی اور جان بہت قیمتی ہے اور اس کا تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ کسی کو یونہی مرنے کیلئے نہیں چھوڑا جاسکتا ۔ حکومت کو اپنے ہٹ دھرمی والے رویہ کو ترک کرتے ہوئے احتجاج کرنے والے کارکنوں اور جہد کاروں سے بات کرنی چاہئے ۔ ان کے موقف کی سماعت کی جانی چاہئے اور اپنے رد عمل کا بھی اظہار کرنا چاہئے ۔
دہلی ہائیکورٹ نے بھی مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ سونم وانگ چوک کی زندگی بچانے کیلئے ضروری مداخلت کرے ۔ عدالت نے زبردستی ان کی بھوک ہڑتال ختم کروانے کی بھی تجویز پیش کی ہے ۔ حکومت کو مصالحانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے احتجاجیوں سے بات چیت کا سلسلہ شروع کرنا چاہئے ۔ اقتدار کے زعم میں مبتلا رہتے ہوئے زندگیوں سے کھلواڑ کرنے کا سلسلہ بند کیا جانا چاہئے ۔ نوجوانوں کی بے چینی اور غم و غصہ خود حکومت کی صحت کیلئے بھی اچھا نہیںکہا جاسکتا اور یہ بات حکومت کو سمجھنی چاہئے ۔