یہ پاگل صرف دل کا مشورہ تسلیم کرتے ہیں
جنوں کا مسئلہ اہل خرد سے حل نہیں ہوگا
جس وقت مرکز کی نریندر مودی حکومت نے کسانوں کیلئے تین زرعی قوانین بنائے تھے اس وقت کسی کو بھی یہ وہم و گمان تک نہیں تھا کہ ان قوانین کو کسانوں کے شدید اور طویل احتجاج کی وجہ سے حکومت کو واپس لینا پڑے گا ۔ حکومت کا دعوی تھا کہ زرعی قوانین کسانوں کے حق میں بہتر رہیں گے اور ان کی آمدنی میں اضافہ کیلئے حکومت نے اقدامات کئے ہیں تاہم کسانوں نے ان قوانین کو یکسر مسترد کردیا اور کہا کہ یہ قوانین در اصل ان کی آزادی چھیننے کی کوشش ہے ۔ حکومت پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ ان قوانین کے ذریعہ کارپوریٹ طبقہ کو زرعی شعبہ پر اجارہ داری فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ حکومت مسلسل ان الزامات سے انکار کرتی رہی اور یہ دعوے کئے جاتے رہے کہ قوانین سے دستبرداری اختیار نہیں کی جائے گی تاہم بعد میں حکومت کو کسانوں کے احتجاج کے آگے مجبور ہونا پڑا ۔ حالانکہ کسان احتجاج کو بدنام اور رسواء کرنے کی کوششوں میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ۔ یہ کہا گیا یہ کسان نہیں موالی ہیں ۔ غنڈہ عناصر ہیں ‘ اربن نکسل ہیں ‘ بیرونی طاقتوں کے آلہ کار ہیں اور خالصتانی تک بھی کہا گیا ۔ تاہم کسان اپنے مطالبہ پر ڈٹے رہے اور انہوں نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اور یہ قوانین واپس لے لئے گئے ۔ اب جبکہ حکومت کی جانب سے فوج میں بھرتی کیلئے اگنی پتھ اسکیم کا اعلان کیا گیا تو ملک کے نوجوان برہم ہوچکے ہیں۔ انہوں نے اس اسکیم کو سرے سے مسترد کردیا ہے اور کہا کہ حکومت انہیں روزگار فراہم نہیں کر رہی ہے بلکہ ان کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہی ہے ۔ انہیں ایک طرح سے روزگار کا جھانسہ دیا جا رہا ہے اور وہ بھی عارضی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے الگ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ حکومت سرکاری خرچ پر آر ایس ایس کے کارکنوں کو تربیت دینا چاہتی ہے ۔ اسی وجہ سے یہ اسکیم شروع کی گئی ہے ۔ تاہم ایک بات ضرور محسوس ہو رہی ہے کہ زرعی قوانین سے مرکز نے کوئی سبق نہیں سیکھا اور من مانی انداز میں اگنی پتھ اسکیم کا اعلان کردیا گیا ۔ حکومت کو در اصل نوجوانوں کے اس قدر شدید اور اچانک رد عمل کی قطعی امید نہیں تھی اور اب وہ پریشان ہے ۔
جس طرح سے مرکزی حکومت نے نوٹ بندی کا اعلان کیا گیا تھا اور بعد میں تقریبا ہر دن نئے نئے اقدامات کے ذریعہ حکومت کے فیصلے میں ترامیم کی گئیں۔ اسی طرح اگنی پتھ اسکیم کا اعلان تو حکومت نے کردیا تاہم نوجوانوں کے شدید اور پرتشدد احتجاج کو دیکھتے ہوئے اب اس میں مختلف ترامیم کا اعلان کیا جا رہا ہے ۔ حکومت نے تقررات کیلئے عمر کی حد میں نرمی کرتے ہوئے 21 سال کی بجائے 23 سال کردیا ہے ۔ اس کے علاوہ فوج کی ملازمت سے سبکدوش ہونے والوں کیلئے وزارت دفاع کی جائیدادوں میں دس فیصد تحفظات کا اعلان بھی کیا ہے ۔ یہ بھی در اصل اڈھاک بنیادوں پر اور عوامی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے کئے جانے والے فیصلے ہیں کیونکہ یہ بھی کارآمد اور سود مند نہیں کہے جاسکتے ۔اگر کوئی نوجوان 23 سال عمر میں بھی فوج میں بھرتی ہوتا ہے تو 27 سال میں وہ پھر بیروزگار ہوجائیگا ۔ اس کے سامنے ساری زندگی پڑی ہوگی اور اسے کوئی راستہ دستیاب نہیں ہوگا ۔ جہاں تک وزارت دفاع کی جائیدادوں پر دس فیصد تحفظات کی بات ہے تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ وزارت دفاع میں کوئی تقررات ہونگے بھی یا نہیں ۔ وہاں بھی کنٹراکٹ اور اڈھاک بنیادوں پر کام چلانے کے اندیشوں کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر کوئی تقررات ہونگے بھی تو وہ بھی محض چند ہزار ہونگے جن سے بیروزگار ہونے والے نوجوانوں کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوگا ۔ اس طرح حکومت کے جو ترامیم سے متعلق اقدامات ہیں وہ بھی نفع بخش نہیں کہے جاسکتے ۔
حکومت اپنے اقتدار کے نشے میں دھت ہے اور اسے عوامی جذبات و احساس کی کوئی فکر نہیں رہ گئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ زرعی قوانین بنائے گئے ۔ تاہم ان سے دستبرداری اختیار کرنی پڑی ۔ اسی طرح عوامی نبض اور بیروزگاری کے مسئلہ کی سنگینی کو سمجھنے کی کوشش کئے بغیر اپنے طور پر اگنی پتھ اسکیم کا اعلان کردیا گیا ۔ یہ بھی حکومت کیلئے الٹی تدبیر ہوگئی ۔ حکومت کو زرعی قوانین پر پیش آئی صورتحال سے سبق سیکھنے کی ضرورت تھی اور عوامی نبض کو سمجھنا چاہئے تھا لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا ۔ اب بھی حکومت کو اس اسکیم سے دستبرداری اختیار کرنے اور فوج میں مستقبل بنیادوں پر تقررات کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔
