پیوپلز پلازا نیکلس روڈ پر سیول سوسائٹی کا احتجاج، جہد کاروں کا ڈاکٹر امبیڈکر کو خراج
حیدرآباد۔4فبروری(سیاست نیوز) ملک کے آئین اور جمہوریت کی حفاظت کا نعرہ لگاتے ہوئے سیول سوسائٹی کے ممبرس نے آج حیدرآباد کی سڑکوں پر اتر کر بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت پر ائین اور ملک کے جمہوری اقدار سے کھلواڑ کا الزام لگایا۔جنا گنا منا ابھیان اور تلنگانہ برائے امن و اتحاد کے زیر اہتمام ایک مارچ ہندوستان کے آئین او ربھائی چارہ کے لئے پیوپلز پلازہ تا مجسمہ امبیڈ کر نکلس روڈ تک نکالا گیا۔ اتوار کا دن ہونے کی وجہہ سے شہر کے مصروف ترین سیاحتی مقام نکلس روڈپر مذکورہ مارچ کی وجہہ سے گھنٹوں تک ٹریفک جام رہا ۔ایڈیٹر آندھرا جیوتی کے سرینواس کے علاوہ پی او ڈبلیو سندھیا‘ جہدکار چندانا چکرورتی‘ جسوین جیرات‘ راما مالکوٹے‘عثمانیہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین لیڈر سلیم باشاہ‘محمد ریاض‘محمد افضل ‘ افسرجہاں‘ عفان قادری‘کے بشمول متعدد سیول سوسائٹی ممبرس نے اس مارچ میںشریک ہوکر دنیا کی عظیم جمہوریت کے آئین سے جاری کھلواڑ کے خلاف جدوجہد کے عزم کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر تلگو‘ اُردو اور انگریزی میں بھارت کے آئین کا اقتباس بھی پڑھاگیا۔ سینکڑوں کی تعداد میں اس مارچ میںشریک جہدکار جس میںتمام مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے ‘ نے اپنے عہد میںملک کی سالمیت کیلئے آخری سانس تک جدوجہد کا اعلان کیا۔جہدکاروں نے دستور ہند کے معمار ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈ کر کو اس موقع پر بھرپورخراج عقیدت بھی پیش کیا او رکہاکہ ہمہ مذہبی اورلسانی ہندوستان کی سب سے بڑی خوبصورتی اس ملک میں تمام مذہب کے لوگوں کو دئے جانے والے مساوی حقوق ہیں۔ جہدکاروں نے مرکزی حکومت پر ان حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا او رکہاکہ جو لوگ ملک میں فرقہ پرستی کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں انہیں مرکزی ایجنسیوں کے ذریعہ ہراساں اور پریشان کیاجارہا ہے۔ان جہدکاروں نے مجوزہ لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کے دوبار ہ اقتدار پر آنے سے ملک کے آئین کو ختم کردینے کا بھی خدشہ ظاہر کیا۔