مودی کا ’ سب کا ساتھ ‘ نعرہ ایک مذاق، ملک بھر میں 32 لاکھ میں محض331 اقلیتی افراد کوقرض، تلنگانہ میں 22 افراد کو فائدہ
حیدرآباد۔/24 جولائی، ( سیاست نیوز) مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسد الدین اویسی نے مرکزی حکومت کے ’’ سب کا ساتھ ‘‘ نعرہ کا مذاق اُڑاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت کی قرض اسکیم کے تحت 32 لاکھ قرض سڑک پر کاروبار کرنے والے افراد کو جاری کئے گئے۔ ان میں سے صرف 0.0102 فیصد اقلیتی طبقات کے افراد کو جاری کئے گئے ہیں۔ اس طرح مرکزی قرض اسکیم میں اقلیتوں کی حصہ داری صفر کے برابر ہے۔ اسد الدین اویسی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ حکومت کے اعداد و شمار نریندر مودی کے ’ سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ نعرہ کو ایک واہمہ ثابت کرتے ہیں۔ اسٹریٹ وینڈرس سے 32 لاکھ قرض جاری کئے گئے جن میں سے صرف 331 کا تعلق اقلیتی طبقہ سے ہے۔ ملک میں مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد غیر منظم شعبہ کے تحت ہے باوجود اس کے مرکزی حکومت نے قرض اسکیم کو نظرانداز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی ساورکر اور گولوالکر کے نظریہ پر عمل کررہے ہیں اور مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنانا چاہتے ہیں۔ صدر مجلس نے کامن ویلتھ ہیومن رائٹس انیشیٹو (CHRI) کے ایک بلاگ لنک کو شیئر کیا جس میں ادارہ کے ایک رکن وینکٹیش نائیک نے آر ٹی آئی کے تحت تفصیلات حاصل کی ہے۔ مرکزی وزارت ہاوزنگ و اربن افیرس کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق مرکز کی پرائم منسٹر سوانیدھی اسکیم کے تحت جون 2020 اور مئی 2022 کے درمیان اقلیتی طبقات کے 0.01 فیصد اسٹریٹ وینڈرس کو قرض فراہم کیا گیا۔ مرکزی وزارت کے مطابق 32.26 لاکھ قرض اسکیم کے تحت اس مدت کے دوران ملک بھر میں تقسیم کئے گئے جس سے 331 استفادہ کنندگان کا تعلق اقلیتی طبقات سے ہے جن کا فیصد 0.0102 ہوتا ہے۔ آر ٹی آئی کے سوال پر مزید بتایا گیا کہ ایس ٹی طبقہ کے 3.15 اور معذورین کے صرف 0.92 استفادہ کنندگان کو مرکزی قرض جاری ہوئے ہیں۔ مہاراشٹرا میں سب سے زیادہ 162 اقلیتی افراد کو قرض جاری کیا گیا جبکہ دہلی میں 110، تلنگانہ 22 ، گجرات 12 ، اوڈیشہ 8 ، آندھرا پردیش 3 اور راجستھان میں 2 اقلیتی افراد کو قرض جاری ہوا ہے۔ اُتر پردیش میں تمام 12 درخواست گذاروں کو پہلا قرض منظور کیا گیا۔ اس طرح ریاست میں صد فیصد درخواستوں کی یکسوئی کی گئی۔ اُتر پردیش کے بعد دہلی، تلنگانہ، گجرات کا نمبر آتا ہے۔ مہاراشٹرا میں اگرچہ پہلے اور دوسرے قرض کیلئے سب سے زیادہ تعداد میں درخواستیں قبول کی گئیں لیکن ریاست میں قرض کی اجرائی کی شرح 56.45 فیصد ہے۔ معذورین کے معاملہ میں ٹاملناڈو میں سب سے زیادہ 8631 درخواستوں کو قرض منظور کیا گیا۔ اُتر پردیش اور کرناٹک دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ اُتر پردیش میں پہلے اور دوسرے قرض کی منظوری کے معاملہ میں 7278 معذورین کو فائدہ ہوا ہے۔ پرائم منسٹر سوانیدھی اسکیم جون 2022 سے عمل کی جارہی ہے جس کے تحت اسٹریٹ وینڈرس کو کاروبار کیلئے قرض جاری کیا جاتا ہے۔ر