منتخب مدارس کو ایک ہی مرتبہ گرانٹ جاری کیا جائیگا، اساتذہ کی تنخواہ حکومت ادا کریگی
بنگلورو۔ مرکزی حکومت کی مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کو اب ریاست کرناٹک میں بھی نافذ کیا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں کرناٹک کے محکمہ اقلیتی بہبود اور ریاستی وقف بورڈ کے عہدیدار شریک تھے۔ اجلاس میں کرناٹک کے نمائندہ علماء اکرام بھی موجود تھے۔ اقلیتی بہبود کے سکریرٹی ابراہیم اڈور اسکیم کے نوڈل آفیسر عطاء الرحمن، وقف بورڈ کے خصوصی افسر مجیب اللہ غفاری نے اسکیم کی مکمل تفصیلات علماء اکرام کے سامنے پیش کیں۔ اس اسکیم کا نام ’مدرسوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی‘
(SPQEM)
رکھا گیا ہے۔ اسکیم نوڈل آفیسر عطاء الرحمن نے کہا کہ یہ کوئی نئی اسکیم نہیں ہے۔ مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل میں پہلے ہی سے یہ اسکیم چل رہی تھی، یہ اسکیم وزارت اقلیتی امور کو منتقل کی گئی۔ اس تبدیلی کے بعد اسکیم کو ازسر نو نافذ کرنے کے لیے پہلی مرتبہ اجلاس منعقد کیا گیا ہے۔ اسکیم کے ذریعہ منتخب مدارس کو ون ٹائم گرانٹ جاری کیا جائے گا۔ منتخب ٹیچروں کے لیے ماہانہ تنخواہ حکومت کی جانب سے ادا کی جائے گی۔ دینی مدارس میں سائنس لیاب، کمپیوٹر لیاب اور اس طرح عصری تعلیم کے انفراسٹرکچر کو قائم کرنے کے لیے طلبہ کی تعداد کے مطابق گرانٹ جاری کی جائے گی جو 5 تا 15 لاکھ روپئے پر مشتمل ہوگا۔ مدروں میں عصری مضامین جیسے سائنس، علم ریاضی، انگریزی، کنڈا سکھانے کے لیے ٹیچرس کا تقرر کیا جائے گا اور انہیں حکومت تنخواہ ادا کرے گی۔ فی ٹیچر ماہانہ 6 ہزار روپئے تنخواہ مقرر کی گئی ہے جس میں ہر سال اضافہ ہوگا۔ مدرسہ کے طلبہ کو کورس مکمل ہونے پر نیشنل اسکول آف اوپن اسکولنگ کا سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔ کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کے خصوصی افسر مجیب اللہ غفاری نے کہا کہ اس سرٹیفکیٹ کے کئی فائدے ہیں۔ دینی مدارس سے فارغ ہونے کے بعد طلبہ اگر چاہیں تو اس سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر پی یو سی اور ڈگری کورس میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ ریاستی اور مرکزی حکومت کی چند ملازمتوں کے لیے بھی طلبہ اہل ہوسکتے ہیں۔ علماء نے کہا کہ اسکیم سے مدرسوں کی خودمختاری کو دھکہ نہیں پہنچنا چاہئے۔