بیروت : جنگ بندی کی شرائط کے تحت یکم فروری کو حماس نے چوتھے تبادلے میں تین اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا ہے۔ اس کے بدلے ہفتہ کو ہی 182 فلسطینیوں کو بھی رہا کیا جانا ہے۔ فلسطینی گروپ حماس نے ہفتہ یکم فروری کے روز تین اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا ہے۔ یوں 19 جنوری کو جنگ بندی پر عملدرآمد شروع ہونے کے بعد سے اب تک 18 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا جا چکا ہے جب کہ اس کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید چار سو فلسطینیوں کو بھی رہا کیا گیا۔ فرانس اور اسرائیل کی دوہری شہریت کے حامل اوفر کالدیرون اور یارڈن بیباس کو جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا جبکہ اسرائیلی اور امریکی شہری کیتھ سیگل کو بعد ازاں غزہ سٹی کی بندرگاہ پر رہا کیا گیا۔ دریں اثناء ہفتہ ہی کے روز اسرائیلی حکام 182 فلسطینیوں کو رہا کر رہے ہیں۔ باقی اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور ان کی واپسی پر مذاکرات آئندہ ہفتہ منگل کو شروع ہونے والے ہیں۔ مذاکرات کے اس دور یعنی معاہدہ کے دوسرے مرحلے میں غزہ سے اسرائیلی فوج کی واپسی پر بھی تبادلہ خیال ہونا ہے۔ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران 33 یرغمالیوں کو رہا کیا جانا ہے، جن میں بچے، خواتین، بوڑھے مرد اور بیمار اور زخمی افراد شامل ہیں۔ 60 سے زائد مردوں کی رہائی دوسرے مرحلے میں ہونی ہے، جس پر مذاکرات ہونا ابھی باقی ہیں۔ ابتدائی 6 ہفتوں پر محیط جنگ بندی کی شرائط پر اب تک مجموعی طور پر عملدرآمد ہو رہا ہے، گو کہ کئی چھوٹے واقعات پیش آئے ہیں، جن کا الزام فریقین ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں۔