بدن نازک ہو، وزن قابو میں ہو تو پنسل ہیل پہننے کا مزا بھی ہے اور اس سے خواتین کی شخصیت کی دلکشی بھی بڑھتی ہے۔لیکن ہمارے یہاں تو کوتاہ قامت بچیاں اور خواتین انہیں بنیادی ضرورتوں میں شمار کر لیتی ہیں۔کچھ سماجی دباؤ بھی بڑھتا ہے اور احساس ستانے لگتا ہے۔ایک قدرتی محرومی کا کیا کریں بچی کا قد چھوٹا رہ گیا! سے ہٹ کر دیکھا جائے تو پنسل ہیل اب رجحان کے طور پر پہنی جانے لگی ہے۔ مغرب میں دراز قد خواتین بھی پنسل ہیل بلا جھجھک پہنتی ہیں، بلکہ وہ اپنی شخصیت کو اسی تناظر میں جاذبِ نظر محسوس کرتی ہیں۔ جوتا سازی کی صنعت میں اس ٹرینڈ میں ہیلز کی ساخت میں بھی خاصی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔مثلاً اب T-Bar سے Mary Jane اور Classic Black Pumps تک ہر اسٹائل پسند کیا جا رہا ہے۔اب آپ کو جنگلی حیات پر مشتمل ڈیزائن بھی دکھائی دیتے ہیں اور سٹرس کلرز میں بھی خاصی ورائٹی مل جاتی ہے۔ برصغیر کے جوتے ساز مقامی ثقافتوں اور تہذیب کے مطابق انہیں بنا رہے ہیں۔مثلاً سادہ جوتوں کے ساتھ ساتھ آپ کو سنہری اور رو پہلے میٹریل میں جھلملاتے نگینوں والے سینڈل مل جاتے ہیں جو ہماری شادی بیاہ کی تقریبات کے موقع پر پہنے جاتے ہیں تو چلئے آپ بھی ایک جوتے کا انتخاب کر لیجئے۔اکثر خواتین پنسل ہیل میں اتنی Comfortable ہوتی ہیں کہ وہ نہ صرف چل سکتی ہیں بلکہ دوڑ بھی سکتی ہیں ۔ کارپوریٹ دنیا میں بطور سکریٹری ملازمت کرنے والی خواتین پنسل ہیل کو بے حد پسند کرتی ہیں اور اس کیلئے ایسا ڈیزائن منتخب کرتی ہیں جس سے افن کے کپڑوں میں مزید نکھار پیدا ہوجاتا ہے یعنی کپڑے اور پنسل ہیل ایک دوسرے سے اتنے مشاہدہ ہوجاتے ہیں کہ دیکھنے والا خواتین کے Dress Dense کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔