غربت کے خاتمہ کی بجائے آر ایس ایس کی تائید والی بی جے پی بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کوشاں
پاکستان اپنا وقار داؤ پر نہیںلگائے گا ۔ وزیرخارجہ محمود قریشی کا واشنگٹن میں خطاب
واشنگٹن ۔ 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان، ہندوستان کے ساتھ قیام امن کیلئے اس کی کوئی قیمت ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہے بہ الفاظ دیگر ہندوستان اگر پاکستان سے قیام امن کے عوض کوئی مطالبہ کرتا ہے یا مشروط بات چیت کی پیشکش کرتا ہے تو یہ پاکستان کیلئے ناقابل قبول ہوگا۔ خصوصی طور پر مسئلہ کشمیر کو انصاف کے ساتھ حل کئے بغیر قیام امن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ وزیرخارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی نے یہ بات سنٹر فار اسٹراٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز
(CSIS)
تھنک ٹینک سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کیلئے ثالثی کے فرائض انجام دینے چاہئے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہیکہ گذشتہ سال 5 اگست کو ہندوستان نے کشمیر کے خصوصی موقف دفعہ 370 کو منسوخ کرتے ہوئے اور اسے مرکز کے تحت دو ریاستوں میں تقسیم کردیا تھا جس کے بعد ہندوپاک تعلقات اپنی بدترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور پاکستان اس سلسلہ میں بین الاقوامی تائید حاصل کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے لیکن اب تک اسے کامیابی نہیں ملی ہے۔ مسٹر قریشی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان پڑوس میں امن و امان چاہتی ہے۔ ہمیں قیام امن کی سخت ضرورت ہے تاکہ ہم ملک میں معاشی اصلاحات اور ترقی کے ایجنڈہ پر سکون کے ساتھ غوروخوض کرسکیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس کیلئے کوئی بھی قیمت (روپئے پیسے والی نہیں) ادا کریں گے۔ ہمارا مطلب یہ ہیکہ اگر ہندوستان ایسی کوئی شرط عائد کرتا ہے جو ہمارے لئے قابل قبول نہ ہو تو ہم اس کی مخالفت کریں گے کیونکہ کوئی کبھی ملک اپنے وقار کو داؤ پر نہیں لگا سکتا۔ علاوہ ازیں پاکستان اس بات کا بھی خواہاں ہیکہ مسئلہ کشمیر کی انصاف کے ساتھ یکسوئی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی تائید والی بی جے پی حکومت غربت کے خاتمہ کیلئے اقدامات نہ کرتے ہوئے مبینہ طور پر ہندوستان کو ہندوراشٹر میں تبدیل کرنے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کی ہندوتوا سے گہری وابستگی اور اکھنڈ بھارت کی پالیسی نہ صرف پورے ہندوستان پر منفی اثرات مرتب کرے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے سنگین نتائج دیکھنے میں آئیں گے۔ 5 اگست کو ہندوستان نے جموں و کشمیر کے متنازعہ موقف کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اس کے سیاسی ڈھانچہ کو بھی تبدیل کرنے کی جانب قدم بڑھایا اور اس کیلئے تمام بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بھی کھلی خلاف ورزی کی گئی۔
ہند ۔ پاک کشیدگی کم کرنا چین کا مقصد
بیجنگ ۔ 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر اٹھانے کے اپنے فیصلہ کی پرزور مدافعت کرتے ہوئے چین نے آج دعویٰ کیا کہ اس کی کوشش ہند ۔ پاک کشیدگی میں کمی لانا رہی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شنانگ نے کہا کہ بیجنگ میں حکومت نے یہ کوشش خیرسگالی کے طور پر کی ہے۔ کونسل کے زیادہ تر ارکان نے وادی کشمیر کی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس لئے چین نے پاکستان کا دائمی حلیف ہونے کے ناطے دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔