مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی کا شاہی مسجد باغ عام میں خطاب
حیدرآباد، 4 فروری(پریس نوٹ) مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی نے کہا کہ ماضی میں اگر ہماری مسجد کی اینٹ بھی ہٹا دی جاتی تو مسلمان بے چین ہوجاتے تھے، محلوں میں ہلچل مچ جاتی اور مسلمانوں کی زندگی رک سی جاتی، اسی ماحول میں مسلمانوں کی تربیت ہوئی۔ لیکن 31 جنوری کو دہلی کی چھ سو سالہ قدیم مسجد اخوندجی کو یکایک شہید کیا گیا۔ جہاں پانچ وقت کی نمازیں ہورہی تھیں، یہ مسجد آباد تھی، اس میں درگاہ بھی تھی۔ اس مسجد میں ایک مدرسہ بھی تھا، وہاں مسجد سے متصل دہلی کے قدیم ترین قبرستانوں میں سے ایک قبرستان بھی تھا۔ مسجد سمیت قبرستان کو اچانک بلڈوزر سے زمین دوز کیا گیا۔ اس طرح کے حالات اور خبریں آج مسلمانوں کو جاننے اور پڑھنے کو مل رہی ہیں۔ ان حالات میں بھی مسلمان اس بحث میں لگے ہوئے ہیں کہ مسجد کے منبر کے قریب ’یا اللہ‘ کے ساتھ ’یارسول‘ لکھنا اور اسے پڑھنا شرک ہے یا نہیں ہے! جب کہ ابنائے وطن عدالتوں سے ان مساجد میں بت پرستی، پوجا اور شرک کی اجازت لے آرہے ہیں اور وہ مساجد میں ان سب کاموں میں مصروف ہیں۔ مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی نے کہا کہ امت مسلمہ کے ایک طبقے کو ’شدت پسند‘ اور ’بنیاد پرست‘ کا ٹیگ دے کر بدنام کیا گیا۔ تو مسلمانوں کے ’’دوسرے مکتبہ فکر‘‘ کے لوگ صرف دیکھتے رہ گئے کہ وہ ’’ہمارے مسلک کے لوگ‘‘ نہیں ہیں، بلکہ بعض مسلمانوں نے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف مسلک و مکتبہ فکر کو بنیاد کر کے شکایتیں کیں اور پولیس کے ساتھ مخبری کرکے وہاں کیس درج کرائے گئے۔ انھوں نے یہ سمجھا کہ ’’ان‘‘ کا آشیانہ اجڑ جائے گا اور ’’ہم‘‘ محفوظ رہیں گے۔ اہل حدیث اور تبلیغی جماعت کے احباب کو نقصان پہچایا گیا تو امت کا بڑا طبقہ یہ سمجھتا رہا کہ یہ ’’ان‘‘ کا مسئلہ ہے، ’’ہمارا‘‘ نہیں۔ معاملہ آگے بڑھا تو باری درگاہوں اور قبرستانوں کی آئی، تب بھی خاموشی اختیار کی گئی اور اب تو معاملہ اللہ کے گھر اور اسلام کے قلعے مساجد کا چل رہا ہے۔ یہ تو رب تعالی کا شکر ہے کہ تلنگانہ میں مسلمانوں کا رعب ہے اور یہاں شمالی ہند کی طرح کے حالات نہیں ہیں۔یہ اللہ کا فضل خاص ہوسکتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کے وقت نہ سوشل میڈیا تھا اور نہ ہی فون، اس زمانے میں اخبارات اور ریڈیو کے ذریعے خبریں پڑھی جاتی تھیں۔ اس زمانے میں خبریں آتی تھی کہ ملک بھر میں رتھ یاترایں چل رہی تھی تو مسلمانوں میں عجب طرح کی بے چینی اور دینی حمیت و غیرت تھی۔ بچے، جوان، بوڈھے اور خواتین سب کے سب صرف ریڈیو پر خبریں سنتے تھے کہ آخر کیا ہورہا ہے؟ جس وقت یہ خونچکا خبر آئی کہ ایودھیا میں موجود بابری مسجد کو شہید کیا گیا تو یہ عالم تھا کہ بھارت کے مسلمانوں کے گھر میں کوئی اپنا بچھڑ گیا ہو، لیکن افسوس کہ ہم نے اس غم، شعور اور احساس کو اپنی نسلوں تک منتقل نہیں کیا۔ آج کی نسل کو تو ان حالات کے بارے میں علم بھی نہیں۔ اب جب کہ بابری مسجد کے مقام پر رام مندر بن گیا تو ان کے یہاں بے پناہ شعور ہے اور وہ ببانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ ہم پر پانچ سو سال سے ظلم ہوا ہے اور ہم نے آج اس کا بدلا لیا۔ ہندووں نے اپنے بچوں میں اس درد کو منتقل کیا۔ مولانا احسن نے آخر میں کہا کہ آج جو حالات گزر رہے ہیں، وہ مسلمانوں پر نئے نہیں ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معراج عطا ہوئی، اس سے قبل آپؐ پر طائف میں ظلم و ستم کی انہتا کی گئی۔ واقعہ طائف سے قبل آپؐ اور خاندان نبوتؐ کا تین سال تک مکمل بائیکاٹ کیا گیا۔ طائف میں آپؐ نے دعا کی کہ’’اے اللہ میں تجھ ہی سے اپنی بے بسی کا شکوہ کرتا ہوں، یہ مجھے رسوا کرنا چاہتے ہیں اس کا شکوہ بھی تجھ ہی سے کرتا ہوں، اے سارے مہربانوں سے زیادہ مہربان! اے میرے پرودگار! آپ مجھے کن کے حوالے کر رہے ہیں جو مجھ سے دور ہیں جو مجھ سے منہ چڑھا کر بات کرتے ہیں؟ اے اللہ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں اور اگر مجھ پر تیرا عتاب نہیں تو مجھے کسی بھی بات کی پرواہ نہیں خداوندا! تیری عافیت کا دامن بہت وسیع ہے۔ اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ مجھ پر تیرا غضب پڑے یا عتاب نازل ہو، تجھ ہی کو منانا ہے اور اس وقت تک منانا ہے جب تک تو راضی نہ ہو جائے‘‘ ۔