مسجد کی شہادت پر دفتر تحریک مسلم شبان پر اجلاس، چیف منسٹر،و زراء سے نمائندگی پر بھی غور و خوض
حیدرآباد۔/16 جون، ( پریس نوٹ) یکخانہ عنبر پیٹ مسجد اور عاشور خانہ کی شہادت دانستہ شر و فساد ہے ، اس مقام پر نماز پڑھنے کی اجازت ہی اس کی اصلاح ہے۔ مسجد کے مقام پر نماز کی ادائیگی تک خاموش بیٹھا نہیں جاسکتا۔ مسلم جماعتوں ، علمائے کرام ، مفتیان عظام نے اس بات کا اعلان کیا ہے۔ مولانا مفتی عبدالمغنی صدر جمعیۃ العلماء سٹی ، جناب محمد مشتاق ملک صدر تحریک مسلم شبان، مولانا مفتی غیاث رحمانی صدر جمعیۃ العلماء تلنگانہ ، جناب محمد اظہر الدین جماعت اسلامی سکریٹری تلنگانہ، مولانا سید حامد حسین شطاری صدر سنی علماء بورڈ ، مولانا محمد نصیر الدین امیر وحدت اسلامی، ڈاکٹر محمد آصف عمری جمعیۃ اہلحدیث ، مولانا تقی رضا عابدی ذاکر اہلبیت کے علاوہ کئی مساجد کے امام ، ملی تحریکوں کے ذمہ داروں کا ایک اہم اجلاس آج صدر دفتر تحریک مسلم شبان واقع اعظم پورہ نزد مسجد صحیفہ عنبر پیٹ مسجد یکخانہ کی بلدیہ کی جانب سے روڈ کی توسیع کے عنوان پر منعقد ہوا۔ قائدین و علماء اور مفتیان نے اس بات کی شدید مذمت کی کہ کچھ مفادات حاصلہ عنبر پیٹ میں یہ پروپگنڈہ میں مصروف ہیں کہ یہ مسجد خالی محراب پر مبنی تھی غیر آباد تھی۔ اجلاس میں مسلمانوں پر اور حکومت کے کارندوں پر یہ بات واضح کردی گئی کہ مسجد کی شرعی حیثیت اس کے غیر آباد ہونے سے نہیں بدلتی، مسجد ایک بار بن جائے تو قیامت تک اس کی حقیقت مسجد ہی کی ہوتی ہے۔ جمعیۃ العلماء جماعت اسلامی، تحریک مسلم شبان، سنی علماء بورڈ، جمعیۃ اہلحدیث، تحریک اسلامی، شیعہ تنظیموں نے مسجد یکخانہ عنبر پیٹ کے مقام پر فوری نماز پرھنے کی اجازت دینے حکومت سے مطالبہ کیا۔ اس اجلاس کا آغاز حافظ و قاری خالد علی خان کی قرأت و نعت سے ہوا۔ علماء کرام نے مسجد کے مقام پر نماز کی ادائیگی کیلئے اپنے پروگرام کا اعلان کیا۔ چیف منسٹر تلنگانہ سے ملاقات کیلئے وقت طلب کرنا بھی طئے پایا ہے۔ اس اثناء میں چیف سکریٹری، میونسپل کمشنر، وزیر داخلہ محمود علی، چیرمین وقف بورڈ محمد سلیم، اراکین پارلیمنٹ حیدرآباد و سکندرآباد سے بھی ملاقات اور نماز کی ادائیگی کا مطالبہ رکھا جائے گا۔ اگر اس کے بعد بھی نماز کی ادائیگی کیلئے حکومت اجازت نہ دے تو تمام مسلم جماعتوں کے قائدین ، علماء کرام ، مشائخین، ذاکرین اہلبیت‘ مسجد یکخانہ عنبرپیٹ جاکر نماز ادا کریں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ اجلاس میں شریک جماعتیں اور ذمہ دار اجلاس کے فیصلوں سے ہٹ کر کوئی دوسرا احتجاجی راستہ نہیں اپنائیں گے۔ مسجد یکخانہ کے مقام پر نماز کی ادائیگی کی جدوجہد مشترکہ اور متحدہ کی جائے گی۔ مسجد یکخانہ کے قانونی موقف کے تعلق سے ہائی کورٹ میں درخواست گذار محمد شکیل ایڈوکیٹ نے اجلاس کو واقف کروایا۔ بلدیہ کے متعلقہ عہدیداروں کے خلاف کوئی کارروائی کا نہ کیا جانا مسلمانوں میں تشویش کا باعث ہے۔ مسلمانوں کی جماعتوں اور علماء نے اس اجلاس میں واضح کیا کہ مسجد کے مقام پر مستقل نماز کی ادائیگی تک ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ اجلاس میں شرکت نہ کرنے والے کئی مشائخین اور علماء نے بھی اجلاس کے فیصلوں کی مکمل حمایت اور تائید کا اعلان کیا۔ مولانا مفتی محبوب نظامی ، مفتی صادق محی الدین، مولانا سید شاہ عارف الجیلانی عالمی جمعیۃ المشائخ، مفتی ابرار، مولانا سید مظہر حسینی صابری ان میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جناب ایم اے غفار نائب صدر شبان، جناب مجاہد مشتاق، جناب صلاح الدین پرویز، نوید جعفری، نذیر الدین ، شیخ محبوب علی، محمد عثمان، محمد ظفر صدیقی، وحید فاضل، جناب شیر شاہ، محمد شکیل ایڈوکیٹ، مولوی اکبر ( صحیفہ )، جناب فاتح عالم ، جناب محمد بن عبداللہ کے علاوہ کئی ملی و دینی تحریکوں کے کارکن اس اجلاس میں شریک رہے۔ اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ وقف بورڈ کی سروے رپورٹ گزٹ اور بلدیہ کو لکھے گئے خطوط اور مسجد کی شرعی حیثیت پر مبنی کتابچہ فوری تیار کیا جائے اور مسلمانوں میں تقسیم کیا جائے۔ اجلاس کا اختتام مولانامفتی عبدالمغنی کی دعا پر ہوا۔
