مسلمانوں سے وعدوں کو فراموش کرنا بی آر ایس کیلئے مسائل کا سبب بن سکتا ہے

   

دو معیادوں میں کے سی آر کی تائید کرنے والی سیاسی و مذہبی تنظیمیں اپنے موقف پر نظرثانی پر مجبور
حیدرآباد۔16۔ مئی۔ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں 2014 سے کے چندر شیکھر راؤ کی تائید کرنے والی غیر سیاسی و مذہبی تنظیمیں اور قائدین اب غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوچکے ہیں ۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی تاریخ ساز کامیابی اور بی جے پی سے اقتدار چھیننے کی صلاحیت کو دیکھنے کے بعد یونائیٹڈ مسلم فورم میں شامل مذہبی تنظیموں کے ذمہ داروں میں تبدیلی کا احساس پیدا ہونے لگا اور وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اب بی آر ایس سے انہیں کوئی توقع نہیں رہی کیونکہ پہلی معیاد میں ہی چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے دو مرتبہ ملاقاتوں میں تیقن دیا تھا کہ وہ جلد مسلم تنظیموں کے مطالبات کی یکسوئی کریں گے اور ان کے اس تیقن پر اعتماد کرکے یونائیٹڈ مسلم فورم نے دوسری معیاد کیلئے تائید کا اعلان کیا تھا لیکن اب جبکہ بی آر ایس کی دوسری معیاد مکمل ہونے جا رہی ہے اور اس معیاد میں کے سی آر نے مسلم نمائندوں کے وفد سے محض ایک ملاقات کی لیکن کسی بھی مسئلہ کو حل نہیں کیا گیا۔ مسلم نمائندوں کے وفد نے چیف منسٹر سے ملاقات میں وقف بورڈ کے ریکارڈ سیکشن کو مہر بند کرنے کا مسئلہ زیر بحث لاتے ہوئے اس کی دوبارہ کشادگی کا مطالبہ کیا تھا علاوہ ازیں تلنگانہ اقلیتی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے ساتھ مسلم نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی ‘ معاشی و تعلیمی ترقی کو یقینی بنانے کی جانب سے متوجہ کروایا تھا لیکن ان میں سے کسی بھی مسئلہ پر حکومت نے توجہ نہیں دی بلکہ ان تمام امور کو نظرانداز کرکے حکومت نے اپنی دوسری معیاد بھی مکمل کرلی ۔ یونائیٹڈ مسلم فورم کے ذمہ دار نے غیر رسمی گفتگو میں بتایا کہ ریاست میں کے سی آر کی حکومت کی تائید کے بعد سے مسلم تنظیموں و اداروں کے ذمہ داروں کو خفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ دو مرتبہ ان کی تائید کے باوجود حکومت نے مسلمانوں کو نظرانداز کیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس مرتبہ فورم ہی نہیں بلکہ فورم میں شامل دیگر مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کے قائدین اس بات کے حق میں نہیں ہیں کہ تلنگانہ میں بی آر ایس کی تائید کی جائے اور بی آرایس کی تائید کیلئے اب کوئی دباؤ بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ تلنگانہ میں بی آر ایس کو نہ صرف یونائیٹڈ مسلم فورم کی تائید کے امکانات کم ہیں بلکہ وہ مذہبی تنظیمیں جو گذشتہ دو انتخابات میں کے سی آر اور ان کے امیدواروں کی تائید کرچکے ہیں وہ بھی اب اس معاملہ میں از سر نو غور کرنے لگے ہیں۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں پر عمل نہ کئے جانے کے علاوہ گذشتہ 4برسوں میں تلنگانہ میں پیش آنے والے واقعات پر حکومت کا ردعمل بھی ان تنظیموں کے ذمہ داروں کو تشویش میں مبتلاء کئے ہوئے ہے۔ ذرائع کے مطابق یونائیٹڈ مسلم فورم کے ذمہ داروں کی جانب سے مسجد یکخانہ ‘ شمس آباد مسجد کی شہادت کے علاوہ نامزد عہدوں میں مسلمانوں کو مناسب نمائندگی نہ دئے جانے کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے ۔ کرناٹک انتخابات میں کانگریس کی کامیابی اور بی جے پی کے صفائے کی اہلیت کو دیکھتے ہوئے فورم سے اب اپنے تمام مطالبات کی ازسر نو حکومت کو روانہ کئے جانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے کیونکہ مسلم نمائندوں کی متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود حکومت کی مسلسل لاپرواہی و غفلت کے نتیجہ میں منتخبہ مسلم نمائندے بھی حکومت و مسلم عہدیداروں کے رویہ سے نالاں نظر آرہے ہیں ۔ م