نمائش میدان واقعہ کے بعد عبداللہ پورمیٹ میں حالات خراب کرنے کی کوشش
حیدرآباد ۔ 12 اکٹوبر (سیاست نیوز) فرقہ پرست طاقتیں ایسا ظاہر ہورہا ہیکہ مسلمانوںکو بدنام کرنے اور سماج میں بدامنی پھیلانے کے مواقع تلاش کررہی ہیں۔ کل نامپلی نمائش گراونڈ میں پیش آئے واقعہ پر ہنگامہ کھڑا کرنے کا واقعہ ابھی تازہ ہی تھا کہ شہر کے مضافاتی علاقہ عبداللہ پور میٹ میں ایسی ہی کوشش کی گئی۔ دسہرہ کے موقع پر اس علاقہ میں مورتی بٹھائی گئی اور ایک ہندو خاتون پر مسلم خاتون کے حملہ کی افواہ پھیلادی گئی اور مسلم خاتون اور اس کے شوہر پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے منڈپ میں توڑپھوڑ کرنے کی اطلاعات عام کردی گئی۔ اس واقعہ کے بعد علاقہ میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ تاہم عبداللہ پور میٹ پولیس کی بروقت کارروائی اور واقعہ کی حقیقت کے انکشاف کے بعد حالات بگڑنے سے بچ گئے اور پرامن ہوگئے۔ تاہم پولیس نے احتیاطی طور پر چوکسی اختیار کرلی ہے۔ فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے پھیلائی گئی اطلاعات کو خود پولیس نے بے بنیاد بتایا اور عوام کو حقیقت سے واقف کروایا۔ بتایا جاتا ہیکہ عبداللہ پور میٹ علاقہ کے جے این این یو آر ایم کالونی میں درگا کی مورتی بٹھائی گئی اور منڈپ نصب کیا گیا۔ اس منڈپ کے قریب مسلم خاتون ثمینہ کا مکان ہے۔ آج صبح ثمینہ نے منڈپ کے ساونڈ کو کم کرنے کی وڈالا چندانا نامی 30 سالہ خاتون سے درخواست کی۔ پولیس نے بتایا کہ چندانا کو فیٹس آنے کی بیماری ہے جو ثمینہ کے جانے کے بعد فیٹس کا شکار ہوگئی۔ اس بات کو بے بنیاد اطلاعات سے جوڑا گیا اور ثمینہ اور اس کے شوہر پر چپل سے منڈپ میں داخل ہونے اور چندانا پر حملہ کرنے کا الزام لگایا گیا اور بیچ بچاؤ کرنے والوں اور چندانا پر حملہ پر اعتراض کرنے والوں کے ساتھ بھی مارپیٹ کا خاتون اور اس کے شوہر پر سنگین الزام عائد کیا گیا۔ اس دوران ڈائیل 100 سے ملی اطلاع پر عبداللہ پورمیٹ پولیس نے فوری کارروائی کی اور مقام واردات پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا۔ اس وقت تک سوشل میڈیا پر اس بے بنیاد خبر کو عام کردیا گیا تھا جس کے سبب کشیدگی پیدا ہوگئی اور شہری جمع ہونا شروع ہوگئے۔ پولیس نے حالات کو سنگین صورتحال کا رخ اختیار کرتا دیکھ کر فوری اقدام کیا اور خاتون کو ہاسپٹل منتقل کرتے ہوئے سارے معاملہ کی تحقیقات کرلی اور حالات کو دیکھتے ہوئے عوام کو حقیقت سے واقف کروا دیا اور افواہوں پر دھیان نہ دینے کی درخواست کی۔ عبداللہ پورمیٹ پولیس نے بتایا کہ حالات مکمل قابو میں اور پرامن پائے جاتے ہیں۔