فرقہ پرست طاقتیں شناخت مٹانے کوشاں، جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر سیاست کا کریم نگر میں خطاب
جس طرح جناب عابد علی خاں مرحوم، جناب محبوب حسین جگر مرحوم کی قیادت میں ملت کی ترقی کو اپنا نصب العین بنایا تھا اسی طرح اب جناب زاہد علی خان کی قیادت میں ملت کی تعلیمی، سماجی، سیاسی اور معاشی ترقی کو یقینی بنانا اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
حیدرآباد 13 نومبر (سیاست نیوز) ملک کی تقسیم کے وقت جو حالات تھے ایسا لگتا ہے کہ آج بھی مسلمانوں کو اسی طرح کے حالات کا سامنا ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کی شناخت مٹانے کے درپہ ہیں اور وہ خاص طور پر مسلمانوں کے مذہبی تشخص کو مٹانے کی خواہاں ہیں۔ ان حالات میں مسلمانوں کو ڈرنے گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات کا مقابلہ صرف اور صرف ہم حقیقت میں سچے اور پکے مسلمان بن کر ہی کرسکتے ہیں۔ آج ہمیں اپنے اخلاق، اپنے کردار اور اپنی انسانیت نوازی کے ذریعہ اپنے ابنائے وطن کو متاثر کرنے کی ضرورت ہے۔ انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہم بھی اس ملک کا مقدر اس کا نصیب ہیں اور ہمارے بغیر اس ملک کی قسمت کے فیصلے نہیں ہوسکتے۔ ان خیالات کا اظہار نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں نے کریم نگر میں روزنامہ سیاست کے 75 ویں سالانہ جشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ رضوی چمن میں واقع ایس ایف ایس فنکشن ہال میں منعقدہ اس یادگار و تاریخی تقریب میں عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کرتے ہوئے زبان اردو، اردو صحافت اور روزنامہ سیاست کے تئیں اپنی محبت و والہانہ لگاؤ کا غیرمعمولی اظہار کیا۔ اس موقع پر محمد عبداللہ اسد رپورٹر سیاست ٹی وی، سعادت صدیقی نامہ نگار روزنامہ سیاست، محسن محی الدین نامہ نگار مانا کنٹہ، مجاہد خان نامہ نگار حضورآباد، سید امام نامہ نگار ہندی ملاپ، سراج مسعود (منصف)، حافظ صادق علی (اعتماد)، شاکر الصمد (رہنما) بھی موجود تھے۔ محمد عبداللہ اسد، محسن محی الدین اور ان کی ٹیم نے مثالی انتظامات کئے تھے۔ جناب عامر علی خاں نے اپنے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے مزید کہاکہ دین اسلام میں وقت اور نظم کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور پنجوقتہ نمازیں ڈسپلن اور پابندی وقت کی بہترین مثال ہے لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نمازوں سے دور، ڈسپلن سے دور اور اپنے دین سے دور ہیں۔ ایسے میں کامیابی و کامرانی، عزت و وقار اور احترام بھی ہم سے دور ہوجاتے ہیں۔ اب بھی ہمارے لئے وقت ہے کہ ہم اپنے رب کو راضی کرلیں، اپنے اخلاق و کردار کے ذریعہ ابنائے وطن کے دل جیتیں۔ ہم اپنے حسن اخلاق کے ذریعہ ہی برادران وطن میں شرپسندوں کی جانب سے پھیلائی جارہی غلط فہمیوں کو دور کرسکتے ہیں۔ جناب عامر علی خاں نے اپنے خطاب میں سیاست کے ملی و قومی اور فلاحی خدمات کے حوالے سے بتایا کہ روزنامہ سیاست نے اپنے قیام سے ہی ملی و قومی خدمات کو اولین ترجیح دی جس کے نتیجہ میں سردست سیاست ملت فنڈ کی جانب سے 50 سے زائد اسکیمات و پراجکٹس چلائے جارہے ہیں۔ ان اسکیمات کا کے جی سے لے کر پی جی طلباء، بیماروں و معذورین، خواتین و نوجوانوں سب کو فائدہ ہورہا ہے۔ اگرچہ اخبار کا کام لوگوں تک خبریں پہنچانا ہوتا ہے لیکن روزنامہ سیاست نے جس طرح جناب عابد علی خاں مرحوم، جناب محبوب حسین جگر مرحوم کی قیادت میں ملت کی ترقی کو اپنا نصب العین بنایا تھا اسی طرح اب جناب زاہد علی خان کی قیادت میں ملت کی تعلیمی، سماجی، سیاسی اور معاشی ترقی کو یقینی بنانا اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ میں ایک مرحلہ پر جناب عامر علی خاں نے ملک کے حالات پر کہاکہ ملک میں فرقہ پرستی کی خطرناک لہر چل رہی ہے اور گزشتہ 8 برسوں کے دوران بے شمار مسلمان شہید ہوچکے ہیں خاص طور پر شمالی ہند میں تعصب و جانبداری خطرہ کے نشان کو پار کرچکے ہیں۔ اس کی بہ نسبت جنوبی ہند میں ایسا نہیں ہے۔ اس معاملہ میں تلنگانہ تو جنت ہے باالفاظ دیگر ریاست تلنگانہ میں امن و امان ہے۔ نیوز ایڈیٹر سیاست نے مزید کہاکہ روزنامہ سیاست ریاست کے مسلمانوں میں سرکاری اسکیمات اور اہم معلومات کی فراہمی کے لئے ڈیٹا بینک قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس کے لئے محلہ واری سطح پر مساجد کی سطح اور ڈیویژن کی سطح پر فون نمبرات جمع کرکے روزنامہ سیاست کو فراہم کئے جاتے ہیں تو وہ نمبرات پر روزگار، ملازمتوں اور تعلیمی اسکالرشپس اور سرکاری اسکیمات سے متعلق معلومات فراہم کئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ کریمنگر میں روزنامہ سیاست کی 75 ویں سالگرہ کے ضمن میں منعقدہ اس پروگرام میں عوام کے جوش و خروش کو دیکھ کر ایسا لگا کہ اردو کے ساتھ لاکھ تعصب و جانبداری برتی جائے اس کے قافلہ کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ اس موقع پر کریم نگر کی معزز شخصیتیں بشمول عبدالصمد نواب جنرل سکریٹری خادمان ملت کریم نگر، ڈاکٹر فصیح نواب چیرمین نوابس اسکول کریم نگر، سرور شاہ بیابانی صدر انجمن ترقی کریمنگر، ریاض علی رضوی سکریٹری مولانا ابوالکلام آزاد ایجوکیشنل سوسائٹی کریم نگر، نعمان احمد اظہار، آصف علی سبحان، مجاہد خاں، فہد عمیر، نعیم ٹی کارنر و دیگر موجود تھے۔ پروگرام میں ممتاز مزاحیہ شعراء منور علی مختصر، ڈاکٹر معین امر بمبو، لطیف الدین لطیف، وحید پاشاہ قادری، ٹپکل جگتیالی، شبیر خان (ہری سنگھ)، زوفی مرزا اور ایس صمدانی نے کلام اور ایٹمس پیش کئے جبکہ عمران خان نے غیرمعمولی انداز میں صوفیانہ کلام پیش کرکے سماں باندھ دیا۔ کے بی جانی پروگرام کے کوآرڈی نیٹر تھے اور انھوں نے بھی اپنے شاہکار کامیڈی ایٹمس کے ذریعہ لوگوں کو قہقہے لگانے پر مجبور کردیا۔ اس موقع پر زاہد فاروقی، محمد ریاض احمد، نعیم وجاہت، جلیل ازہر، شاہنواز بیگ، محمد منیر اور سید اسرار و دیگر موجود تھے۔