عمر رسیدہ افراد کے لائسنس کی تجدید سے عہدیداروں کا انکار ۔ حکومت کی ہدایات کا دعوی
حیدرآباد۔12جنوری(سیاست نیوز) لائسنس یافتہ ہتھیار رکھنے والے مسلمانوں کو لائسنس سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے! ملک گیر سطح پر جاری حالات کے تناظر میں جہاں مسلمانو ںکو لائسنس یافتہ ہتھیاروں سے لیس کرنے کی ضرورت ہے ایسے ماحول میں ریاست میں ہتھیاروں کے لائسنس سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور مختلف بہانوں سے ان کے لائسنس کو منسوخ کرنے کی کوششیں شروع ہوچکی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہتھیاروں کے لائسنس کی تنسیخ کے سلسلہ میں متعدد بہانے کئے جارہے ہیں اور عمر رسیدہ افراد کے لائسنس کو منسوخ کرنے کے اقدامات کو تیز کرتے ہوئے انہیں ہتھیاروں کے استعمال کیلئے نااہل تصور کرکے یہ کہا جا رہاہے کہ ان کے لائسنس منسوخ کرنے یہ وجہ کافی ہے۔گجرات ہائی کورٹ نے 65سالہ بزرگ کی جانب سے داخل کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران لائسنس کی اجرائی و تجدید کے مجاز عہدیداروں کی جانب سے 60سال عمر ہونے کے سبب ہتھیار کے لائسنس کی عدم تجدید کیلئے ان کی عمر کو بنیاد بناتے ہوئے یہ کہا گیا تھا کہ ان کی عمر 60 سال سے تجاوز کرچکی ہے اسی لئے انہیں اب ہتھیار کے لائسنس کی ضرورت نہیں ہے۔ جوناگڑھ کے ساکن سرتیجا نامی شخص نے عدالت سے رجوع ہوکر بتایا کہ وہ گذشتہ 21 سال سے لائسنس یافتہ بندوق رکھتے ہیں لیکن اب ان کی عمر 65سال ہونے کی بنیاد پر لائسنس کی تجدید نہ کرکے یہ کہا جار ہاہے کہ انہیں اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جسٹس بیرین ویشنو نے درخواست کی سماعت کے دوران کہا کہ جب عمر میں اضافہ ہوتا ہے تو خطرات میں اضافہ کے خدشات ہوتے ہیں اسی لئے بزرگوں کو لائسنس دینے سے انکار یا ان کے لائسنس کی تجدید سے انکار نہیں کیا جانا چاہئے ۔ ذرائع کے مطابق لائسنس کی اجرائی اور تجدید کے مجاز عہدیدارو ںکی جانب سے مخصوص طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو لائسنس جاری کرنے میں تعصب کا مظاہرہ کیا جانے لگا ہے اور بالواسطہ طور پر مختلف بہانوں سے لائسنس یافتہ ہتھیار رکھنے والے مسلمانوں کے لائسنس کو منسوخ کرنے اقدامات کئے جارہے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ عہدیداروں کی جانب سے واضح طور پر کہا جا رہاہے کہ حکومت کی ہدایات کے مطابق لائسنس کی اجرائی کے علاوہ تجدید کے معاملہ میں احتیاط سے کام لیا جا رہاہے۔ ذرائع کے مطابق عہدیداریہ کہہ رہے ہیں کہ وہ خود بھی لائسنس کی اجرائی کی حوصلہ افزائی نہیں کر رہے ہیں اور لائسنس کی تنسیخ کیلئے پالیسی تیار کی جار ہی ہے۔م