20 روزہ تقاریب میں اقلیتوں کیلئے کوئی پروگرام نہیں
حیدرآباد۔24۔مئی ۔ (سیاست نیوز) مسلمان تشکیل تلنگانہ کا حصہ نہیں تھے یا حکومت مسلمانوں سے دوری کے ثبوت فراہم کرتے ہوئے اکثریتی طبقہ کو قریب کرنے کی کوشش کررہی ہے! اندرون 10 سال مسلمانوں کو اب یہ ثابت کرنا پڑرہا ہے کہ وہ بھی تحریک تلنگانہ میں شامل تھے اور انہیں بھی ریاست میں دیگر طبقات کے مساوی حقوق حاصل ہونے چاہئے لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے اختیار کردہ رویہ سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ریاستی حکومت تاسیس تلنگانہ کی 10 سالہ تقاریب سے مسلمانوں کو دور رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے 2جون تا 22جون منائی جانے والی تاسیس تلنگانہ کی 20روزہ تقاریب کے دوران ریاستی حکومت نے اقلیتوں کو فراموش کردیا اور اب تک مشاعرہ اور غزلیات یا قوالیوں کے پروگرام تک محدود رکھی جانے والی اقلیتو ںکو اب ان پروگرامس تک بھی نہیں رکھا گیا ہے بلکہ ان 20 روزہ 10 سالہ تقاریب کے دوران جن پروگرامس کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ان میں 9جون کو ہر گاؤ ں میں تالاب کے تہوار کے علاوہ بتکماں‘ بونال اور مچھیروں کے لئے ریالیوں کا اہتمام کرنے کاف فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ 17جون کو قبائیلی آبادی کی ترقی اور ان کے لئے چلائی گئی اسکیمات کے نتائج اور قبائیلی تہذیب پر مشتمل پروگرامس رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت نے کسانوں اور کاشتکاروں کے لئے بھی 5جون کو پروگرامس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن ریاست کی اقلیتی آبادی کو مکمل طور پر ان تقاریب میں نظر انداز کردیا گیا ہے۔ پہلے یوم تاسیس تلنگانہ کے موقع پر حکومت تلنگانہ کی جانب سے چارمینار کے دامن میں مشاعرہ کے علاوہ اردو مسکن میں قوالی کے پروگرام اور قلی قطب شاہ اسٹیڈیم میں غزل کے پروگرام کا اہتمام کرتے ہوئے اردو داں طبقہ کو یوم تاسیس کی تقاریب کا حصہ بنانے کے اقدامات کئے گئے تھے اور اب جبکہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے 10 سالہ تقاریب کے ذریعہ ریاست بھر میں تقاریب منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ان میں اقلیتوں یا مسلمانوں کا کہیں تذکرہ تک نہیں ہے۔ان تقاریب کے لئے تیار کردہ ’لوگو‘ میں کسی بھی مسلم تہذیبی عمارت کو شامل نہ کرتے ہوئے حکومت نے ایک خاموش پیغام دیا تھا اور اب جبکہ 20 روزہ 10سالہ تقاریب کے ریاستی پروگرامس کا اعلان کیا گیا ہے ان میں کوئی بھی خالص مسلم یا اقلیتی پروگرام شامل نہیں ہے جس میں چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ شرکت کرنے والے ہیں۔بتکماںاور بونال خالص مذہبی پروگرام ہیں جبکہ بتکماں کو تہذیبی پروگرام کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اسی طرح مچھیروں ‘ کسانوں ‘ کاشتکاروں کے لئے پروگرام کے علاوہ قبائیلی طبقہ کے لئے پروگرام ترتیب دیئے گئے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت راشٹرسمیتی یا حکومت تلنگانہ کے پاس مسلمانوں کی کیاقدر رہ گئی ہے!م