مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات، ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کا کارنامہ

   

فیس ری ایمبرسمنٹ اور حیدرآباد کو پانی کی سربراہی ، سابق وزیر محمد علی شبیر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 8 ۔ جولائی (سیاست نیوز) مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں 4 فیصد تحفظات کی فراہمی آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی کا کارنامہ ہے۔ سابق چیف منسٹر حقیقی معنوں میں سیکولر اور اقلیت دوست تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کیلئے کئی اسکیمات کا آغاز کیا تھا ۔ راج شیکھر ریڈی کی 73 ویں یوم پیدائش کے موقع پر سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی پسماندگی کو دیکھتے ہوئے راج شیکھر ریڈی نے تعلیم اور روزگار میں تحفظات کی مساعی کی۔ ہائیکورٹ سے 5 فیصد تحفظات کو کالعدم قرار دینے کے بعد انہوں نے 4 فیصد تحفظات پر عمل کئے تاکہ مجموعی تحفظات 50 فیصد سے تجاوز نہ کریں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ تحفظات کے نتیجہ میں 20 لاکھ سے زائد اقلیتی طلبہ کو فائدہ ہوا ہے اور ہزاروں ڈاکٹرس اور انجنیئرس تیار ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محکمہ جات کے تقررات میں مسلمانوں کو 4 فیصد نشستیں مختص کی جارہی ہیں ۔ یہ تمام راج شیکھر ریڈی کی اقلیت دوستی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ کے ذریعہ غریب مسلم طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کئے گئے لیکن افسوس کہ کے سی آر حکومت نے فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کیلئے بجٹ کی اجرائی روک دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں میٹرو ریل اور 159 کیلو میٹر طویل آؤٹر رنگ روڈ راج شیکھرریڈی دور میں شروع کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کو پینے کے پانی کی سربراہی کیلئے کرشنا سے مرحلہ دوم اور سوم پر عمل کیا گیا اور گوداوری سے 10 ٹی ایم سی پانی حیدرآباد کو سربراہ کرنے کا آغاز راج شیکھر ریڈی دور میں ہوا ہے۔ آنجہانی حقیقی معنوں میں عوامی قائد تھے۔ آج بھی ان کی فلاحی اسکیمات کو عوام یاد کرتے ہیں۔ اقلیتوں کے علاوہ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور دیگر پسماندہ طبقات کیلئے راج شیکھر ریڈی نے کئی اسکیمات متعارف کی۔ شبیر علی نے بتایا کہ انہیں 2004 ء سے 2009 ء تک راج شیکھر ریڈی کابینہ میں شمولیت کا شرف حاصل ہوا۔ اور وہ حیدرآباد کے انچارج وزیر تھے۔ ر