نظام آباد:30؍ اکتوبر ( مومن ٹائمز) صدر ضلع اقلیتی سیل بھارت راشٹرا سمیتی نوید اقبال نے ادارہ جات مقامی میں پسماندہ طبقات کے لئے تحفظات کے تعین کا جائزہ لینے قائم کردہ بی سی کمیشن کی منگل کو نظام آباد میں منعقدہ عوامی سماعت میں حصہ لیا۔ نوید اقبال نے کمیشن کو ایک تحریری یادداشت بھی پیش کیا اور بتایاکہ اگرچہ تلنگانہ میں مسلمانوں کو تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں 4 فیصد تحفظات میسر ہیںمگر ایوان نمائندگان میں مسلمانوں کو سیاسی تحفظات حاصل نہیں ہیں۔ اب جب کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں ادارہ جات مقامی کے انتخابات میں پسماندہ طبقات کے لئے تحفظات کا تعین کرنے ریونت حکومت نے کمیشن قائم کیا ہے‘ اس لئے یہ مناسب وقت ہے کہ تحفظات کا تعین کرتے ہوئے مسلمانوں کے بچھڑے ہوئے طبقات کو بھی تحفظات کے ثمرات سے بہرہ ور کیا جائے تاکہ بلدیات اور پنچایتوں میں آزادی کے بعد سے بتدریج گھٹتی ہوئی مسلم نمائندگی کا ازالہ کیا جاسکے۔ نوید اقبال نے کہا کہ کئی کمیشنس نے اپنی رپورٹس میں مسلمانوں کی پسماندگی کا اعتراف کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس حکومت کے ہی قائم کردہ سچر کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ادارہ جات مقامی میں مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ جات مقامی میں مسلمانوں کی محفوظ زمرہ میں شامل کردہ برادریوں کو تحفظات کی فراہمی کی صورت میں مقامی حکومتوں میں بھی ان کی نمائندگی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ورنہ آنے والے دنوں میں ادارہ جات مقامی میں مسلمانوں کی نمائندگی نہ کے برابر ہوجائے گی۔