دارالسلام میں جلسہ عظمت مصطفی ﷺ۔ بیرسٹر اسد اویسی ‘ مفتی خلیل احمد اور مولانا جعفر پاشاہ و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔18 ۔جون(سیاست نیوز) مسلمانوں کیلئے اپہنے محاسبہ کا وقت ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں کہ ان کی زندگیوں میں اللہ کے رسولﷺ کی سنت اور کردار ہے یا نہیں‘ ہمیں اس بات کو دیکھنا ہے کہ کیا ہم قرآن اور سنت کے مطابق زندگی گذار رہے ہیں یا نہیں !اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت کے دعوے سچے ہیں یا نہیں اس بات کا جائزہ لیں۔بیرسٹر اسدالدین اویسی ایم پی نے جلسہ عظمت مصطفی ﷺ سے خطاب میں ان خیالات کا اظہارکیا۔ انہوں نے امت مسلمہ سے کہا کہ یہ ایک بہترین موقع ہے کہ ہم اپنا محاسبہ کریں‘ انہو ںنے کہا کہ اگر مسجدوں کے بجائے پبس کو آباد کریں گے تو یہ مشکلات آئیں گی‘ انہوں نے کہااگر ہم عصمت ریزی کریں گے تو یہ مشکلات آتی ہی رہیں گی۔ بیرسٹر اویسی نے کہا کہ اگر ہم پبوں میں بیٹھیں گے اور دعویٰ کریں گے کہ ہم اللہ کے رسولﷺ سے محبت کرتے ہیں تو یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے کہا کہ ایک وقت میں شیطان اور خداکو راضی نہیں کرسکتے۔ انہو ںنے اپنی زندگیو ںمیں انقلاب پیدا کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دین کو سیکھنے اور اس پر عمل کرنے سے ہی انقلاب پیدا ہوگا‘ انقلاب اولاد کی پرورش قرآن و سنت کے مطابق پیدا ہوگا‘ انقلاب اس وقت پیدا ہوگا جب ہم مساجد کو آباد کریں گے‘انہو ںنے نمازوں کی پابندی کی تاکید کی اور کہا کہ زندگیوں میں انقلابی تبدیلی وقت کا اہم تقاضہ ہے۔ انہوں نے گستاخ رسولﷺ کے منہ پر طمانچہ رسید کرنے اپنی زندگیوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔اللہ کے رسولﷺ عالم انسانیت کی سب سے اہم اور برگذیدہ شخیصت ہیں‘نبیؐ کی سیرت مبارکہ اسلام پر کی جانے والی دشنام طرازیوں کا جواب دینے کیلئے کافی ہے‘تعلیمات محمدی ؐ کو عام کرکے اسلام پر حملو ں کو ناکام بنایا جائے گا‘ شان رسالت ﷺ میں گستاخی کرنے والوں اور اسلام کے خلاف زہرافشانی کرنے والوں کے خلاف سخت سزاء کا تعین کیا جائے ‘بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان کی گستاخی کی ہم مذمت کرتے ہیں اور بی جے پی کی جانب سے گستاخ کے خلاف کاروائی نہ کئے جانے کی بھی مذمت کرتے ہیں۔حکومت تلنگانہ گستاخ نپور شرمااور نوین جندال کے خلاف قانونی کاروائی میں تیزی لائے اور اسے گرفتار کرے۔ اسدالدین اویسی نے دارالسلام میں مشترکہ مجلس عمل کے زیر اہتمام منعقدہ جلسۂ عظمت مصطفیﷺ کے دوران یہ قرارداد پیش کی جسے جلسہ عام میں موجود جانثاران مصطفی ﷺ نے نعرۂ تکبیر کی صداؤں کے ساتھ منظور کیا۔ بیرسٹر اویسی نے کہا کہ ہندستانی مسلمانوں نے متحدہ طور پر شان رسالتﷺ میں گستاخی پر متحدہ احتجاج کرتے ہوئے جو پیغام دیا وہ قابل قدر ہے۔ مفکر اسلام مفتی محمد خلیل احمد شیخ الجامعہ نے کہا کہ ہمیں کسی سے مرعوب یا متاثر ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ قانون کسی کے گھر کا نہیں ہے اللہ نے جس کو حق کہہ دیا وہ حق ہے اسی لئے ہمیں کوئی خوف نہیں کرنا چاہئے ۔ مفتی خلیل احمد نے کہا کہ عرب میں 9 سال کی عمر میں بلوغت کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ نبی ؐ کی محبت کے بعد دلوں میں ایمان آتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ رب العزت نے اپنے نبی ؐ کی شان میں کفار و مشرکین کے ذریعہ صادق و امین کہلایا۔شیخ الجامعہ نے کہا کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ اللہ کے رسول ﷺ کے لئے اللہ کا انتخاب تھیںاسی لئے اگر ان کی شان میں کوئی گستاخی یا عیب لگانے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ صرف ان کی شان میں نہیں بلکہ اللہ کی ذات پر حرف لگانے کے مترادف ہے۔اس عظیم الشان جلسہ ٔ عام سے محمد حسام الدین جعفر پاشاہ ‘ مولانا سید مسعود حسین مجتہدی ‘ مولانا رحیم الدین انصاری‘ مولانا سید اولیاء حسینی مرتضیٰ پاشاہ ‘ مولاناسید علی قادری الہاشمی ممشاد پاشاہ ‘ ڈاکٹر اسماء زہراء صدر شعبۂ خواتین آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ‘ مولانا ڈاکٹر سید نثار حسین حیدرآغا‘ مولانا محمد حامد حسین حسان فاروقی ‘ مولانا سید آل مصطفی قادری کے علاوہ دیگر نے مخاطب کیا۔ مولانا حسام الدین جعفر پاشاہ نے کہا کہ ملک میں جس طرح کے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ان کا مقابلہ کرنے اپنی زندگیوں میں اسلام کو داخل کرنا ہوگا۔انہو ںنے بتایاکہ اللہ نے اپنے نبیؐ کی زندگی کو محفوظ کردیا ہے اور صبح قیامت تک یہ دنیا کے لئے بہترین اسوۂ حسنہ ہے۔مولانا زبیرقاسمی نے عالم اسلام کے حالات اور مسائل کا تذکرہ کیا ۔ مفتی معراج الدین ابرار نے حرمت رسول کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اللہ کے رسولؐکی تعلیمات عام کرنے کی ضرورت ہے۔م