مسلمانوں کی دلجوئی کے بجائے حقوق اور انصاف کی فراہمی ضروری

   

مسلم تحفظات بحال کریں اور حجاب پر پابندی ختم کی جائے، کرناٹک حکومت کو ریٹائرڈ آئی پی ایس عہدیدار نثار احمد کی تجاویز
سرکاری اداروں پر سیاستدانوں کے بجائے پروفیشنلس اور ریٹائرڈ اعلیٰ عہدیداروں کے تقرر کی سفارش
حیدرآباد۔/21مئی، ( سیاست نیوز) کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی میں اقلیتوں کا اہم رول رہا اور نتائج کے بعد اقلیتوں کو امید ہے کہ حکومت مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی ترقی کیلئے ٹھوس قدم اٹھائے گی۔ کرناٹک کے ریٹائرڈ آئی پی ایس عہدیدار یو نثار احمد نے نئی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلمانوںکا اعتماد حاصل کرنے مختصر اور طویل مدتی ترقیاتی منصوبہ تیار کریں۔ نثار احمد نے کہا کہ مسلمانوں کی دلجوئی کے بجائے انہیں حق اور انصاف دیا جائے۔ نثار احمد نے کانگریس کی نئی حکومت کو مسلمانوں کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے کئی تجاویز پیش کی ہیں۔ نثار احمد کے مطابق مسلمانوں نے کانگریس کی تائید کی جس کے نتیجہ میں ایک سیکولر پارٹی برسراقتدار آئی ہے۔ کانگریس نے انتخابی منشور میں تمام طبقات سے انصاف کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے نئی حکومت پر زور دیا کہ وہ سابق نظم و نسق کے غلط فیصلوںکو ترجیحی بنیادوں پر درست کریں۔ انہوں نے مسلمانوں کو زمرہ 2B کے تحت فراہم کردہ 4 فیصد تحفظات کی بحالی اور تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ نثار احمد نے قومی تعلیمی پالیسی میں ضروری ترمیمات کی تجویز پیش کی۔ اسکے علاوہ اقلیتی بہبود کیلئے اسکیمات و پروگرموں کی بحالی اور استحکام و بیجا الزامات کے تحت گرفتار افراد کے تحفظ کیلئے مداخلت کی اپیل کی۔ نثار احمد نے مختلف اقلیتی اداروں و بورڈز اور کمیشنوں پر سیاسی افراد کو صدورنشین اور ارکان پر مقرر کئے جانے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے تجربہ کار پروفیشنلس، ریٹائرڈ آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں کو اہم عہدوں پر نامزد کرنے کی سفارش کی۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کے تجربات سے مسلم کمیونٹی کو خاطر خواہ فائدہ ہوگا۔ ریٹائرڈ آئی پی ایس عہدیدار نے اہم اداروں جیسے انسانی حقوق کمیشن، اسٹیٹ انفارمیشن کمیشن اور پبلک سرویس کمیشن میں مسلم نمائندگی کو اہم ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو کاسٹ سرٹیفکیٹ کی اجرائی میں تیزی پیدا کرنے اور جان بوجھ کر تاخیر کرنے والے عہدیداروں کو متنبہ کرنے کی صلاح دی۔ انہوں نے مسلمانوں کو او بی سی سرٹیفکیٹ کی اجرائی میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا جس کے نتیجہ میں مرکزی جائیدادوں پر تقررات میں ناکامی ہوئی ہے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ مستحق امیدواروں کی نشاندہی کرکے انہیں ضروری سرٹیفکیٹس جاری کریں۔ اوقافی جائیدادوں کی تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے نثار احمد نے تجویز پیش کی کہ محکمہ مال گزٹ وقف جائیدادوں کی ملکیت وقف بورڈ کے نام پر رجسٹر کرے ۔ انہوں نے اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کی برخواستگی کیلئے پولیس، ریوینیو اور وقف بورڈ کے درمیان باہمی تعاون پر زور دیا۔ تعلیمی اور سماجی ترقی کے سلسلہ میں انہوں نے سرکاری اراضیات مسلم اداروں کو الاٹ کرنے اور حج بھون کو مسلم نوجوانوں کو مسابقتی امتحانات کی کوچنگ کیلئے استعمال کرنے کی تجویز پیش کی۔ سرکاری محکمہ جات میں تقررات کا حوالہ دے کر نثار احمد نے سفارش کی کہ اقلیتی اور پسماندہ طبقات کے دیانتدار اور فعال عہدیداروں کو اہم محکمہ جات جیسے پولیس اور ریوینیو میں تقرر کیا جائے۔ انہوں نے مختلف کارپوریشنوں و بورڈز صدورنشین اور ارکان کے عہدوں پر مسلمانوں کو ترجیح دینے پر زور دیا۔ انہوں نے بعض سرکاری اداروں کی نشاندہی کی جن میں اسٹیٹ ہاوزنگ بورڈ ، سلم ڈیولپمنٹ بورڈ، بنگلور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی، انڈسٹریل انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن، اسٹیٹ ٹریڈنگ کارپوریشن، اسٹیٹ فینانس کارپوریشن، فوڈ اینڈ سیول سپلائیز کارپوریشن، فاریسٹ کارپوریشن اور پولیوشن کنٹرول بورڈ شامل ہیں۔ر