مسلمانوہوشیار! تلنگانہ میں فرقہ پرست طاقتیں سرگرم، اشتعال انگیز تقاریر میں شدت

,

   

Ferty9 Clinic

ریاست میں ٹی آر ایس کو کمزور اور بی جے پی کو مضبوط بنانے کی خاص مہم، مقامی جماعت کے قائدین کی تقاریر سے فرقہ پرستوں کو فائدہ، مذہبی تہواروں کے سہارے آر ایس ایس بھی مصروف

حیدرآباد ۔ /24 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کیلئے بی جے پی اور اس کی بغل بچہ تنظیمیں سرگرم ہوگئی ہیں۔ فرقہ پرستوں کو مشتعل کرنے کیلئے مقامی جماعت کے قائدین بھی اشتعال انگیزی پر اُتر آئے ہیں۔ مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان کشیدگی کو ہوا دینے والے بیانات سے ریاست تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد کا پُرامن ماحول مکدر ہوسکتا ہے۔ آنے والے چند ہفتوں میں کئی مذہبی تہوار اور عیدین آرہے ہیں۔ شہر میں بونال جلوس کے بعد بقرعید اور گنیش اُتسو تقاریب منعقد ہوں گی۔ اسی طرح دسہرہ اور دیوالی تہوار بھی آنے والے ہیں۔ ریاستی پولیس ان تہواروں کو لے کر سنجیدہ اور فکرمند ہے۔ لاء اینڈ آرڈر کی برقراری پولیس کیلئے اہم مسئلہ بنتی جارہی ہے کیونکہ دونوں طبقات کی نمائندگی کرنے والے قائدین اپنے سیاسی مفادات کیلئے باہم اشتعال انگیزی پر اُتر آئے ہیں۔ حال ہی میں کریم نگر میں کی گئی تقریر کے دوران یہ بات دہرائی گئی کہ 15 منٹ کا موقع دینے کی دھمکی کا آر ایس ایس پر جو ضرب پہنچا ہے وہ ہنوز خوف بن کر طاری ہے۔ اس کے جواب میں بی جے پی کے قائدین نے اس تقریر کا فرقہ وارانہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں گروپس ایک دوسرے کو مشتعل کرکے اپنے سیاسی مفادات کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں اور اپنے اپنے رائے دہندوں کی بَلی چڑھانا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے قائدین دوسرے مذہب پر تنقید کررہے ہیں جس کے ذریعہ عوام کے جذبات مجروح کرنا چاہتے ہیں۔یہاں کی مقامی جماعت کے قائد کی جانب سے ایک ضلع میں کی گئی تقریر پھر ایک مرتبہ تنقید کا نشانہ بنی ہے اور غیر مسلم قائدین اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرقہ پرستی کو ہوا دینا چاہتے ہیں۔

تلنگانہ میں بھارتیہ جنتاپارٹی اپنے وجود کو مستحکم بنانے کیلئے عوام کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش میں مصروف ہوچکی ہے ۔ بھارتیہ جنتاپارٹی جہاں مسلمانوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے وہیں مسلمانوں کو بھارتیہ جنتاپارٹی کا خوف دکھانے کیلئے بی جے پی کیلئے آلہ کار کا کام کرنے والی سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی متحرک ہوچکے ہیں۔ بی جے پی اور گنیش اُتسو سمیتی نے اس سال گنیش وسرجن کے موقع پر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا ہے۔ تلنگانہ میں آر ایس ایس قائدین کے دورے اور آر ایس ایس کے اہم پرچارک رام مادھو کا تعلق بھی تلنگانہ سے ہونے سے ریاست میں بی جے پی کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی تمام کوششیں کی جارہی ہیں۔ ٹی آر ایس کو بہرحال سیاسی طور پر کمزور کرنے کیلئے ایک طرف بی جے پی قائدین سرگرم ہیں تو ان کی سرگرمیوں کو درپردہ طور پر تقویت دیتے ہوئے مقامی جماعت کے قائدین اپنا رول ادا کررہے ہیں۔

ایک طرف ٹی آر ایس کی دوست بن کر بے وقوف بنایا جارہا ہے تو دوسری طرف مرکز کی حکمراں پارٹی بی جے پی کی درپردہ سیاسی مدد کرتے ہوئے ہاتھ مضبوط کئے جارہے ہیںاور یہ سب کچھ سیاسی مفادات کے بغیر ممکن نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کرناٹک حکومت کے زوال کا انتظار کیا جارہا تھا جیسے ہی کرناٹک میں جے ڈی ایس اور کانگریس حکومت کا زوال ہوگیا اس کے ساتھ ہی تلنگانہ میں بھارتیہ جنتاپارٹی نے اپنی تحریک میں شدت پیدا کردی ہے ۔ جس کے نتائج کرناٹک میں حکومت کے زوال کے فوری بعد نظر آنے لگے ہیں ۔ ریاست تلنگانہ میں حکومت کے حلیف سمجھی جانے والی سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھارتیہ جنتاپارٹی کے خلاف کی جانے والی بیان بازیوں کے ساتھ ساتھ بھارتیہ جنتاپارٹی کی جانب سے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والے بیانات اکثریتی و اقلیتی طبقہ کے درمیان خلیج پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں ۔ اس طرح کے بیانات کو ہوا دینے کیلئے جو کوششیں کی جارہی ہیں ان کوششوں میں کئی سیاستداں ملوث ہیں ۔ کرناٹک میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد بھارتیہ جنتاپارٹی نے تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے اپنی کوششوں میں شدت پیدا کردی ہے۔بھارتیہ جنتاپارٹی 2019 ء عام انتخابات کے بعد سے تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے کی خواہاں ہیں ۔ اور اس سلسلے میں کوششوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ مسٹر امیت شاہ نے حیدرآباد پہونچ کر بی جے پی قائدین کا اجلاس منعقد کیا اور 2023ء میں اقتدار حاصل کرنے کا بلیو پرنٹ بھی تیار کیا ہے ۔ امیت شاہ نے اپنے دورہ تلنگانہ کے دوران یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ہر ماہ ریاست تلنگانہ کا دورہ کریں گے اور بی جے پی کو یہاں پر مستحکم کریں گے ۔ بھارتیہ جنتاپارٹی کی جانب سے رکنیت سازی مہم بھی جوش و خروش سے چلائی گئی جس میں لاکھوں نوجوان کو رکنیت دی گئی ۔ امیت شاہ پارٹی کے تنظیمی امور کو بھی مزید مستحکم کرنے کیلئے یہاں کے قائدین سے مسلسل ربط میں ہیں اور مملکتی وزیر داخلہ جی کشن ریڈی کو بھی سرگرم رکھا گیا ہے اور وہ اپنے حلقہ کا مسلسل دورہ کرتے ہوئے عوام سے ملاقات کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ بھارتیہ جنتاپارٹی کے رکن اسمبلی نے فیس بک ویڈیو میں ریاست تلنگانہ کے ایک ضلع میں ہوئی تقریر پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مسلم سیاسی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کیا۔