خوف ایک آزمائش، شاہی مسجد باغ عام میں مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی کا خطاب
حیدرآباد، 6 اگست (پریس نوٹ) امت مسلمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اسلام کیلئے شہادتیں تو بہت ہوئیں لیکن شہادت عظمیٰ حضرت سیدنا حسینؓ کی شہادت کو کہا جاتا ہے۔ جس کا ہر پہلو نمایاں اور سبق آموز ہے۔ اللہ اپنے بندوں کی جانب سے محبت چاہتا ہے کہ ہر بندہ اس کی بندگی کرے۔ اور اس سے بے پناہ محبت کرے۔ ویسے تو دنیا میں ہزاروں مخلوق ہیں؛ لیکن انسان کو اللہ نے سب پر فوقیت دی اور انسان کو اہمیت دی۔ محبت بڑی چیز ہے، محبت میں انسان کو درد، بھوک اور ظلم سہنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ’البتہ ہم تم کو خوف، بھوک اور تمہارے مالوں، جانوں اور اولاد کے نقصان میں ضرور مبتلا کریں گے، اور ان صبر کرنے والوں کو بشارت دیجئے‘۔ اس آیت میں اللہ تعالی نے پانچ چیزوں کا ذکر کیا ہے۔ مشکل ترین حالات اور شدید خوف بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے۔ ڈاکٹر مولانا احسن بن محمد الحمومی نے شاہی مسجد، باغ عام میں دوران خطاب کہا کہ خوف کے ماحول میں انسان کے دو رویہ ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو ڈرا رہا ہے؛ انسان اس سے ڈر جاتا ہے اور دوسرا یہ کہ انسان اس خوف کا مقابلہ کرتا ہے۔ اس آیت میں دوسری نشانی بھوک کی بتائی گئی ہے۔ بھوک میں بھوکا رکھنا، کاروبار کو نقصان پہنچانا اور سرمایہ کو ختم کرنا شامل ہے۔ ایسے ماحول میں انسان کے پاس دو ہی اختیار ہوتے ہیں، یا تو اسلام پر قائم رہے، اللہ کی محبت کو ترجیح دے یا دین سے سودا کرکے اپنے کاروبار کو ترجیح دے۔ مال کی بھی آزمائش ہوگی۔ جانوں کا بھی نقصان ہوگا اور اولاد کے بارے میں بھی آزمائش ہوگی۔ کربلا کی آزمائش کے دوران حضرت سیدنا حسینؓ نے ان سب حالات کا مقابلہ کیا۔ یہ جو کچھ ہوتا ہے اللہ سے محبت کرنے کے صلے میں ہوتا ہے۔ پتھر کو ہیرا بننے کیلئے کٹنا پڑتا ہے۔ سونے کو بھی گھسنا پڑتا ہے۔ حالات ایمان والوں کی مضبوطی کیلئے آتے ہیں۔ ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ رب العزت کے ناموں میں ایک نام ’’اللطیف‘‘ ہے۔ قرآن میں اس نام کا تین بار ذکر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو مشکل حالات میں بھی اچانک مدد فرماتے ہیں۔ ہندوستان میں پہلے بھی ایسے کئی حالات آئے اور کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا، کوشش بھی جاری تھی، لیکن اللہ نے ان حالات سے مسلمانوں کو نکالا۔ مولانا احسن نے کہا کہ موجودہ حالات سے گھبرانے کی ضرروت نہیں۔ ان حالات میں بھی ہم سے یہ مطالبہ ہے کہ ہم جس مقصد کے لیے دنیا میں پیدا کیے گئے ہیں، اس مقصد کو پورا کریں۔ خدا کو راضی کریں۔ ظلم جتنا بڑھے، سجدے اتنے طویل ہوں۔ ان حالات میں ہمیں مسجدوں سے رابطہ بڑھانا ہوگا تاکہ پتہ چلے کہ جب جب ظلم ہوتا ہے، یہ قوم اپنے مولا کی رسی کو پکڑ لیتی ہے۔ دشمنوں کو صرف اس بات کا خوف ہے کہ کہیں مسلمان اپنے خدا کی طرف راغب نہ ہو۔ واقعہ کربلا کا بھی یہی پیغام ہے کہ جب جب ظلم ہوتا ہے اس کا مقابلہ کیا جائے۔ اسی لیے محمد علی جوہر نے کہا تھا کہ ’قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے / اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد‘ واقعہ کربلا کے کئی سو سال بعد بھی ’’قتل حسین‘‘ ایک اصطلاح بن گئی ہے۔ قتل حسین کے معنی مظلوم کے قتل کے بھی ہیں۔ اسلام کی فطرت میں لچک ہے، جتنا اسے دباؤ گے، اتنا ہی وہ ابھرے گا۔ ایسے حالات میں بھی اللہ پر یقین کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
