مسلمان صدور نشین کو نظرانداز کئے جانے کے واقعات

,

   

دیگر صدرنشین سرکاری تقاریب میں موجود ، صرف مسلمان محروم

حیدرآباد ۔ 25 جولائی ( سیاست نیوز) مختلف کارپوریشن اور بورڈ کے مسلم صدور نشین کو متعلقہ وزراء اور اضلاع کلکٹرس سرکاری تقاریب ترقیاتی و تعمیراتی کاموں میں پروٹوکال کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نظرانداز کررہے ہیں ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست کے مختلف کارپوریشنس ، بورڈس اور اکیڈیمیوں و کمیٹیوں کیلئے صدورنشین کو نامزد کیا ہے ۔ چیف منسٹر کی ہدایت پر حکومت کی جانب سے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں ۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے مختلف اضلاع میں وزراء اور کلکٹرس کی جانب سے سرکاری تقاریب ترقیاتی کاموں اور اجلاسوں میں مختلف کارپوریشنس کے صدورنشین کو مدعو کرتے ہوئے پروٹوکال پر عمل آوری کی جارہی ہے تاہم مسلم صدورنشین کو پروٹوکال کی عمل آوری میں مکمل نظرانداز کیا جارہا ہے ۔ ترقیاتی کیاموں میں وزراء کی جانب سے انہیں مدعو نہیں کیا جارہا ہے اور ساتھ ہی اجلاسوں میں کلکٹرس انہیں دعوت نامہ نہیں جاری کررہے ہیں ۔ اس کے علاوہ ترقیاتی و تعمیری کاموں کے سنگ بنیاد پر ان کے نام تحریر نہیں کئے جارہے مسیح اللہ خان کو ریاستی وقف بورڈ کا صدرنشین نامزد کیا گیا ہے ، ان کا انتخاب بورڈ کے ارکان نے کیا ہے اور وہ حکومت کے نمائندہ ہیں ۔ اس طرح امتیاز اسحق کو تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کا صدرنشین نامزد کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ محمد سلیم کو ریاستی حج کمیٹی کا صدرنشین نامزد کیا گیا ۔ اس طرح خواجہ مجیب الدین کو اردو اکیڈیمی کا صدرنشین نامزد کیا گیا ہے ۔ جنہوں نے حال ہی میں اپنی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ ضلع محبوب نگر سے تعلق رکھنے والے صدرنشین اقلیتی مالیاتی کارپویشن امتیاز اسحق کو محبوب نگر میں ہونے والی ترقیاتی و تعمیری کاموں میں مدعو نہیں کیا جارہا ہے ۔ اس طرح حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے صدرنشین حج کمیٹی محمد سلیم اور صدرنشین وقف بورڈ مسیح اللہ خان کو سرکاری تقاریب و تعمیری سرگرمیوں میں مدعو نہیں کیا جارہا ہے ۔ اس طرح پروٹوکال کی عمل آوری میں مسلم صدورنشین کو نظرانداز کرنے کی عام شکایتیں ہیں جس کا سخت نوٹ لینا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ بصورت دیگر حکومت کی جانب سے انہیں جو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں وہ برائے نام ہوکر رہ جائیں گی ۔ دوسرے کارپوریشنس کو اہمیت دے کر صرف مسلم صدور نشین کو اپنے اپنے بورڈ کارپوریشن اور اکیڈیمی تک محدود رکھنا ان سے سراسر ناانصافی ہوگی ۔ ن