مسلمان ‘ ما بعد رمضان

   

کسی کا بانٹ لیں غم اور کسی کے کام آئیں
ہمارے واسطے وہ روز، روزِ عید ہوتا ہے
ماہ رمضان المبارک ہم سے وداع ہوچکا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی مقدس مہینے کی رحمتیں ‘ برکتیں اور رونقیں بھی ہم سے جدا ہوگئی ہیں ۔ اس ایک ماہ کے عرصہ میں ساری دنیا کے مسلمانوں نے انتہائی ڈسیپلین کا مظاہرہ کیا تھا ۔ روزے رکھے ‘ نمازوں کی پابندی کی گئی ‘ عبادات و اذکار میںمشغول رہے ‘ تلاوت قرآن مجید کی گئی ‘ غریبوں کی داد رسی کی گئی ۔ غریب رشتہ داروں کی ضروریات کا خیال رکھا گیا ۔ معاشرہ کے غرباء اور یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھا گیا ۔ ان کی حتی المقدور مدد کی گئی ۔ زکواۃ ‘ صدقات اور خیرات کا وسیع تر انتظام کیا گیا تھا ۔ بھوک اور پیاس کا احساس کیا گیا ۔ ہم نے محسوس کیا کہ جب کسی کا پیٹ خالی ہوتا ہے تو اس کی کیفیت کیا ہوتی ہے ۔ ایک مہینے میں ہم نے اپنے رب اللہ تبارک و تعالی کو راضی کرنے کی اپنی بساط کے مطابق کوشش کی ۔ یہ حقیقت ہے کہ اس کوشش میں کئی خامیاں اور کوتاہیاں بھی ہوئی ہیں۔ تاہم یہ بھی ضرور ہے کہ ہم نے اپنی جانب سے کوشش ضرور کی ہے ۔ اللہ تبارک و تعالی ہماری کوشش اور ہماری نیت کو ہی دیکھتا ہے ۔ نتائج کی اسے پرواہ نہیں ۔ رب کائنات بے نیاز ہے ۔ بندگان خدا نے اپنے رب کو راضی کرنے کی جو کچھ بھی کوششیں کی تھیں وہ قابل ستائش ہی کہی جاسکتی ہیں۔ جہاںہم نے دن میں روزے رکھے وہیںراتوں میں جاگ کر تراویح کا اہتمام کیا ۔ نماز تہجد بھی ادا کی گئی ۔ تلاوت قرآنی بھی کی گئی اور اپنے گناہوںسے توبہ وا ستغفار کرتے ہوئے رب تبارک و تعالی کو راضی کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اب یہ مقدس مہینہ ہم سے رخصت ہوچلا ہے اور ہم اس کی رحمتوں ‘ برکتوں اورسعادتوں سے جدا ہوگئے ہیں۔ حالانکہ رمضان کا مہینہ رخصت ہوچکا ہے تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ جو جذبہ ہم نے اپنے اندر اس ماہ مقدس کے دوران پیدا کیا تھا اور جس جذبہ کے ساتھ ہم زندگی گذار رہے تھے اسی جذبہ کو آئندہ مہینوںمیں بھی اپنے اندر برقرار رکھیں۔ جو اسلامی ڈسیپلین ہم نے اس ماہ مقدس میںاختیار کیا تھا اسی کو سارا سال اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم کامیاب ہوجائیںاور دنیا میںرسواء ہونے کا جو سلسلہ چل رہا ہے اس کو روکا جاسکے ۔
مسلمانوںکیلئے ماہ رمضان المبارک نے صرف روزوں یا نمازوں کا ہی درس نہیںدیا ہے ۔ صرف زکواۃ و خیرات تک ہی اس کا پیام محدود نہیں رہا ہے بلکہ ماہ رمضان المبارک نے ہمیں ساری زندگی گذارنے کا ایک ایسا ضابطہ فراہم کیا ہے جس کو اختیار کرتے ہوئے اور جس پر عمل کرتے ہوئے ہم اپنی زندگیوںکو کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرسکتے ہیں۔ اس بات کو ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ روزے بھلے ہی ماہ رمضان المبارک کے ہی فرض ہیں لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ نمازیں ہم پر ہر ایک دن میں پانچ مرتبہ فرض ہیں ۔ ہمیں مسجدوں سے اپنے رابطوںکو ٹوٹنے نہیںدینا چاہئے ۔ نمازوں کی پابندی کرنی چاہئے ۔ جو تعلق اور رابطہ ہم نے اپنے رب کریم سے ماہ رمضان میںا ستوار کیا تھا اسے برقرار رکھنا چاہئے ۔ ہمیںاسی جوش و جذبہ اور شوق و ذوق کے ساتھ نمازوں کی پابندی کرنی چاہئے جس کا مظاہرہ ہم نے ماہ رمضان المبارک میں کیا تھا ۔ ہمیں غریبوں اور مجبوروں کی داد رسی کاسلسلہ ماہ رمضان میں بھی جاری رکھنے کی ضرورت ہے ۔ خاص طور پر اپنے غریب رشتہ داروں کا خیال رکھنا چاہئے ۔ اپنے پڑوسیوں کی ضروریات سے ہمیںغفلت نہیں برتنی چاہئے ۔ ہمیں مثالی مسلمان بننے کی ضرورت ہے کہ دنیا یہ محسوس کرے کہ حقیق مسلمان کیا ہوتا ہے اور وہ دنیا اور ساری انسانیت کیلئے کس طرح کی مثال قائم کرسکتا ہے ۔ ہمیں اپنے دلوں سے کدورتوں کو دور کرتے ہوئے ایک دوسرے سے محبت اور اخوت کو عام کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔
آج ساری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی ہو رہی ہے ۔ دنیا کا ہر طبقہ صرف اور صرف مسلمانوںکو نشانہ بنانے پر تلا ہوا ہے ۔ آپسی اختلافات کو فراموش کرتے ہوئے تمام معاشرے صرف مسلمانوںکو نشانہ بنانے کے معاملے میںایک جٹ نظر اًنے لگے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان بھی ایک ہوجائیں۔ ایک اللہ ‘ ایک رسول ؐ اور ایک قرآن کو ماننے والے مسلمان اگر اپنی صفوں میںاتحاد پیدا کرلیں اور حقیقی اسلامی جذبہ کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنالیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ذلیل و رسواء نہیں کرسکتی ۔ ہمارے پاس موقع ہے کہ جس ضابطہ حیات کو رمضان میں اختیار کیا تھا اسے پوری زندگی کیلئے اختیار کیا جائے ۔