جماعت اسلامی ‘ جمیعۃٖ العلما و دیگر ذمہ داران کا بیان
حیدرآباد۔کورونا وائرس کا ٹیکہ لینے میں مسلمانوں کیلئے کوئی قباحت نہیں ۔ جماعت اسلامی ‘ جمیعۃ علمائے ہند ( ارشدمدنی) آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈکے علاوہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکے رکن جناب کمال فاروقی نے کہا کہ ہندستانی مسلمانوں کو کورونا ٹیکہ کے حصول میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہئے ۔ جماعت اسلامی سیکریٹری شریعہ کونسل مولانا رضی الاسلام ندوی نے کہا کہ کورونا کے اجزاء ترکیبی کا مشاہدہ کرنے سے قبل حرام قرار دینا مناسب نہیں ہے اور اگر اس ٹیکہ میں سور کی جلاٹین موجود ہے تب بھی ٹیکہ لیا جاسکتا ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ کسی حرام شئے کی ماہیت تبدیل ہونے پر اس کے استعمال اور انسانی جان کے تحفظ کیلئے استعمال کی گنجائش ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے مسلمانو ںسے اپیل کی کہ وہ کورونا ٹیکہ کے حصول میں قباحت محسوس نہ کریں بلکہ ٹیکہ لے کر خود کو اور دوسروں کو تحفظ فراہم کرنے میں تعاون کریں۔ مولانا ارشد مدنی نے بھی واضح کیا کہ جب اجزائے ترکیبی میں کوئی حرام شئے اپنی اصل شکل میں موجود نہیں تو اس کے استعمال کی گنجائش ہے ۔ مولانا یعصوب عباس آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ نے بھی اپیل کی کہ وہ کورونا ٹیکہ کے حصول میں غلط فہمیوں کا شکار ہونے کے بجائے ٹیکہ لگائیں اور بحث میں الجھنے سے گریز کریں۔ جناب کمال فاروقی نے کورونا ٹیکہ پر بحث کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکہ لگوانے میں عار محسوس کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ جائزہ لیں کہ ٹیکہ کس مقصد سے لیا جارہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ علماء و اکابرین نے شرعی اصولوں کا جائزہ لینے کے بعد توثیق کی کہ جب کسی شئے کی اصلی ماہیت تبدیل ہوجاتی ہے تو اس کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں ہے اس فیصلہ کے بعد اس پر بحث کرنا فضول ہے۔
