مسلمان ‘گھروں میں نماز ادا کریں ‘ زاہد علی خاں

,

   

Ferty9 Clinic

علما و مفتیان کے فیصلے کا احترام ضروری ۔ وباء کا مقابلہ سب کی ذمہ داری : ایڈیٹر سیاست

حیدرآباد 26 مارچ (سیاست نیوز) جمعہ کے موقع پر علماء اکرام و مفتیان اکرام کے فیصلہ کے مطابق گھروں میںنمازیں ادا کرتے ہوئے علماء کے احترام کو ظاہر کریں اور دنیا کو پیغام دیں کہ کورونا وائرس سے مقابلہ میں مسلمان کسی سے پیچھے نہیں بلکہ وہ اس وباء کو پھیلنے سے روکنے ممکنہ تعاون کرنے تیار ہیں۔ جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست نے عامۃ المسلمین سے اپیل کی کہ وہ مساجد میں ہجوم نہ کریں بلکہ علمائے اکرام کے فیصلہ کا احترام کرکے جمعہ کے موقع پر گھروں میں نماز ظہر ادا کرلیں ۔ انہو ںنے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس سے نمٹنا ہرذی شعور کی ذمہ داری ہے اور ایسے موقع پر ماہرین صحت کی ہدایات کے مطابق عمل کرکے انسانیت کی خدمت کی جائے۔ جناب زاہد علی خان نے کہا کہ ماہرین صحت مشوروں کے مطابق شہریوں کو گھروں سے نکلنے سے منع کیا گیا ہے اور معاشرتی فاصلہ برقرار رکھنے کی تاکید کی جا رہی ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے سے وباء کے تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ کے رسول ﷺ کے امتی خیر امت ہیں اور انہیں کسی کیلئے تکلیف کا باعث نہیں بننا چاہئے اسی لئے گھرو ںمیں نمازادا کرنے کا جو مشورہ علمائے اکرام نے دیا ہے اس پر عمل کرکے اس بات کو یقینی بنایاجانا چاہئے کہ ہماری وجہ سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ ایڈیٹر سیاست نے کہا کہ مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے امکانی فیصلوں کو دیکھتے ہوئے تمام مکاتب فکر کے علماء نے مشترکہ فیصلہ کیلئے اجلاس طلب کرکے جو فتوی جاری کیا ہے وہ عامۃ المسلمین کیلئے ہے اسی لئے اس پر عمل آوری میں کوتاہی نہیں کی جانی چاہئے ۔ جناب زاہد علی خان نے کہا کہ مرکزی وریاستی حکومتوں کی جانب سے بھی بڑے اجتماعات بشمول مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے تاکہ انسانیت کو کورونا وائرس جیسی وباء سے محفوظ رکھا جا سکے ۔ ایڈیٹر سیاست نے علماء اکرام کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ علماء نے جو فیصلہ کیا ہے وہ حالات کی عین ضرورت کے مطابق ہے اور علما نے مذہبی اعتبار سے مساجد کو مقفل نہ کرکے ان میں محدود افرا د کی نماز کی گنجائش بھی فراہم کی ہے اسی لئے مساجد میں موجود عملہ مساجد میں نماز ادا کرے اور عام شہریوں کو چاہئے کہ وہ گھرو ں میں ہی نماز ادا کرکے وباء کو روکنے میں اپنا تعان کریں کیونکہ یہ وباء صرف معاشرتی دوری کے ذریعہ روکی جاسکتی ہے اور اس کے علاج کی اب تک کوئی سبیل نظر نہیں آرہی ہے۔