اسلامی کلمات کی ادائیگی پر تبادلہ، ہندوتوا سوشل میڈیا پر خاتون عہدیدار کے خلاف منظم مہم
حیدرآباد 15 ستمبر (سیاست نیوز) مغربی بنگال میں مسلم آئی پی ایس عہدیدار ڈاکٹر بشریٰ بانو کا ہندوتوا طاقتوں کے دباؤ میں تبادلہ کردیا گیا۔ ڈاکٹر بشریٰ بانو کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا میں وائرل ہوا جس میں اُنھوں نے اسلامی الفاظ کا استعمال کیا۔ ویڈیو کا آغاز ’السلام علیکم‘ سے ہوا اور درمیان میں اُنھوں نے ’انشاء اللہ‘ اور ’جزاک اللہ‘ جیسے الفاظ ادا کئے۔ بشریٰ بانو سابق میں سعودی عرب میں خدمات انجام دے چکی ہیں اور اُنھوں نے یونین پبلک سرویس کمیشن کے امتحانات میں 2 مرتبہ کامیابی حاصل کی اور آئی پی ایس عہدیدار کی حیثیت سے مغربی بنگال میں فرائض انجام دے رہی ہیں۔ ہندوتوا تنظیموں نے بشریٰ بانو کے ویڈیو پر تنازعہ کھڑا کرتے ہوئے آئی پی ایس رتبہ کے عہدیدار کی جانب سے اسلامی کلمات ادا کرنے کی مخالفت کی۔ ہندوتوا تنظیموں نے اِس ویڈیو کو وائرل کیا اور بشریٰ بانو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ اُنھوں نے پولیس عہدیدار ہونے کے باوجود وندے ماترم یا جئے ہند جیسے الفاظ کا استعمال نہیں کیا ہے۔ ہندوتوا کے نمائندہ سدرشن نیوز چیانل نے بھی بشریٰ بانو کو نشانہ بنایا اور اُن کے آئی پی ایس کے طور پر انتخاب کو ’’یو پی ایس سی جہاد‘‘ قرار دیا۔ ہندو لیگل فنڈ نامی ویب سائٹ کی جانب سے بنگال کے ہوم سکریٹری کو بشریٰ بانو کے خلاف شکایت کی گئی۔ ہندوتوا تنظیموں کے اعتراض اور تنقیدوں کے دوسرے ہی دن بشریٰ بانو کا تبادلہ کردیا گیا۔ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے تبادلہ کی مذمت کی اور کہاکہ ایک طرف بریکس سمٹ میں مسلمان مندوبین کے لئے نئی دہلی میں پریئر روم کا اہتمام کیا گیا اور دوسری طرف ایک مسلمان عہدیدار کا تبادلہ کردیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ بی جے پی نے بریکس سمٹ کے دوران اپنے سیکولر ہونے کا اظہار کیا۔ مہوا موئترا نے بشریٰ بانو سے کہاکہ وہ پریشان نہ ہوں، ترنمول کانگریس اُن کے ساتھ ہے۔ واضح رہے کہ مہوا موئترا نے 2 ہفتے قبل ہی الزام عائد کیا تھا کہ وزیرداخلہ امیت شاہ کے پروگرام میں مغربی بنگال کے مسلم عہدیداروں کو شامل نہیں کیا گیا۔ کانگریس رکن راجیہ سبھا عمران پرتاپ گڑھی نے آئی پی ایس آفیسرس اسوسی ایشن پر زور دیا کہ وہ اِس معاملہ کا نوٹ لے۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ نفرت پھیلانے والے ٹی وی چیانل نے بشریٰ بانو کے ویڈیو کو سنسنی خیز انداز میں پیش کرتے ہوئے تنازعہ کو ہوا دی ہے۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ عہدیدار کا ساتھ دیتی، برخلاف اُس کے اُن کا تبادلہ افسوسناک ہے۔ ایک طرف اسلامی کلمات کی ادائیگی پر مسلم آئی پی ایس عہدیدار کا تبادلہ کردیا گیا جبکہ اترپردیش پولیس سے وابستہ انوج چودھری کو سنبھل میں مذہبی رتھ یاترا میں یونیفارم کے ساتھ شرکت کے باوجود ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس فیروز آباد کے عہدہ پر ترقی دی گئی۔ صحافیوں اور جہدکاروں نے بشریٰ بانو کے تبادلہ کے انداز پر سخت اعتراض جتایا ہے۔ بشریٰ بانو کو ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس کھڑک پور کے عہدہ سے تبادلہ کرکے ڈپٹی کمانڈنٹ آف اسٹیٹ آرمڈ پولیس مقرر کیا گیا۔ خاتون آئی پی ایس عہدیدار نے 13 ستمبر کو ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ریزیڈنشیل کوچنگ اکیڈیمی سے اپنے تجربات بیان کئے تھے۔ 2021ء آئی پی ایس بیاچ سے تعلق رکھنے والی بشریٰ بانو نے ریزیڈنشیل کوچنگ اکیڈیمی سے یونین پبلک سرویس کمیشن کے امتحان کی تیاری میں مدد ملنے کا ذکر کیا تھا۔ اُنھوں نے حال ہی میں اپنے دورۂ سعودی عرب کے تجربات پر مبنی ایک ویڈیو بھی جاری کیا تھا۔V/1