چشمِ ساقی سے سمجھ جاتے ہیں میخوار تمام
گردشِ جام بھی ہے گردشِ ایام کے بعد
چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ مکمل انتخابی موڈ میں آتے جا رہے ہیں۔ وہ سماج کے مختلف طبقات کی تائید حاصل کرنے کے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم اس معاملہ میں وہ اقلیتوں کو ایسا لگتا ہے کہ یکسر فراموش کرچکے ہیں۔ انہیں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے اقدامات سے کوئی دلچسپی نہیں رہ گئی ہے ۔ وہ اقلیتوں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کرنے پر بھی کوئی توجہ نہیں کر رہے ہیں۔ اب چیف منسٹر نے اعلان کیا ہے کہ وہ قبائلی طبقات کیلئے تحفظات کی حد میں اضافہ کرتے ہوئے انہیں 10 فیصد کریں گے ۔ اس کیلئے وہ مرکزی حکومت کی منظوری کا بھی انتظار نہیں کریں گے بلکہ ایک اعلامیہ جاری کردیں گے ۔ سمام کے دبے کچلے اور پسماندہ طبقات کو تحفظات فراہم کرتے ہوئے انہیں ترقی کے سفر میں سب کے ساتھ ملانے میں کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے تاہم ہر معاملے میں اقلیتوں اور مسلمانوں کو پیچھے چھوڑنے کی جو روایت چل رہی ہے اس کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ آج مسلمان زندگی کے ہر شعبہ میں دوسرے طبقات سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ یہ کہا جائے تو بھی بیجا نہیں ہوگا کہ زندگی کے ہر شعبہ میں مسلمانوں کو پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے ۔ انہیں کسی طرح کی راحت یا سہولت فراہم کرنے پر کوئی حکومت تیار نہیں ہے ۔ جس وقت علیحدہ ریاست تلنگانہ کیلئے احتجاج چل رہا تھا کے چندر شیکھر راؤ نے مسلمانوں کے حقوق کی بات کی تھی ۔ ان سے وعدہ کیا تھا کہ اندرون چار تا چھ ماہ 12 فیصد مسلم تحفظات ٹاملناڈو کی طرز پر فراہم کئے جائیں گے ۔ مسلمانوں کی وقف جائیدادوں پر قبضوں کو برخواست کرتے ہوئے انہیں وقف بورڈ کے حوالے کیا جائیگا ۔ وقف بورڈ کو جوڈیشیل اختیارات دئے جائیں گے ۔ بعد میں یہ بھی اعلان کیا گیا تھا کہ مسلمانوں کیلئے بھی دلتوں کی طرز پر سب پلان منظور کیا جائیگا ۔ یہ سارے وعدے کاغذ پر دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ چندر شیکھر راؤ یا ان کی حکومت ان وعدوں پر عمل کرنے کے معاملے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی ۔ ان وعدوں کو عملا فراموش کردیا گیا ہے ۔ ان پر کوئی سوال بھی کرلے تو جواب دینے سے انکار کیا جا رہا ہے ۔
جہاں تک مسلمانوں کے تحفظات کی بات ہے تو اس پر تو ٹی آر ایس نے زبانی بات کرنا بھی بند کردیا ہے ۔ نہ چیف منسٹر اس پر بات کرنے تیار ہیں اور نہ ہی کوئی دوسرے ذمہ دار وزراء یا قائدین زبان کھول رہے ہیں۔ ٹی آر ایس کے مسلم قائدین بھی ایسا لگتا ہے کہ اس وعدہ کو فراموش کرتے ہوئے قیادت کی چاپلوسی کو ہی ترجیح دینے لگے ہیں۔ انہیں اپنی قوم کے حقوق کی بات کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی ہے ۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ ہر معاملے میں ہونے والی ناانصافی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے سے خوف محسوس کر رہے ہیں۔ انہیں کسی طرح سے بھی عوام کی فلاح و بہبود سے دلچسپی نظر نہیں آتی ۔ چیف منسٹر آج سماج کے تمام طبقات کی فلاح و بہبود کی بات کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کا جب بھی ذکر آتا ہے تو محض شادی مبارک اسکیم یا پھر اقلیتی اقامتی اسکولس کا تذکرہ کرکے بری الذمہ ہونے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو اگر تحفظات فراہم کردئے جائیں تو پھر انہیں ترقی کرنے میں بہت مدد مل سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ شادی مبارک یا اقامتی اسکولس صرف مسلمانوں کیلئے نہیں ہیں ۔ سماج کے تمام طبقات کیلئے یہ اسکیمات ہیں اور ایسی اسکیمات لاگو کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے مسلمانوں پر کسی طرح کا احسان نہیں ہے ۔ اسی طرح مسلمانوں کی ہزاروں کروڑ روپئے کی اوقافی جائیدادوں پر حکومت قبضہ کرچکی ہے ۔ درگاہ حسین شاہ ولی ؒ کی قیمتی اراضی کو بھی حکومت نے حاصل کرلیا ہے جبکہ اسی اراضی کو چندر شیکھر راؤ نے پہلے وقف قرار دیا تھا ۔
مسلمانوں کی اوقافی جائیدداوں پر جس طرح سے دوسرے محکمہ جات اور حکومت نے قبضہ کیا ہوا ہے اگر ان اراضیات کو دیانتداری کے ساتھ وقف بورڈ کے حوالے کردیا جائے اور انہیں مسلمانوں کی فلا ح و بہبود کیلئے استعمال کیا جائے تو مسلمانوں کی پسماندگی کو دور کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں رہ جائیگا ۔ مسلمانوں کی تعلیمی ‘ سماجی اور معاشی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے وسائل کی کمی نہیں رہ جائے گی اور نہ ہی حکومتوں کو دکھاوے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ جہاں چیف منسٹر قبائلی طبقات کیلئے تحفظات میں اضافہ کرنے کو تیار ہیں انہیں مسلم تحفظات پر بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں مسلم تحفظات کو یقینی بنانے آگے آنا چاہئے ۔ صرف ہتھیلی میں جنت دکھاتے ہوئے مسلمانوں کو مزید گمراہ کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے اور عملی اقدامات کرتے ہوئے سنجیدگی کا ثبوت دیا جانا چاہئے ۔
تشدد پر بی جے پی کے دوہرے معیارات
ملک بھر میں سیاسی کارکنوں کے تشدد کی روایت عام ہوتی جا رہی ہے ۔ خاص طور پر بی جے پی کارکن اپوزیشن اقتدار والی محتلف ریاستوں میں تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے انتظامیہ کیلئے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ بی جے پی قائدین کی جانب سے تشدد کے معاملے میں بالکل دوہرا معیار اختیار کیا جا رہا ہے ۔ جہاں کہیں اپوزیشن کے کچھ کارکن پولیس سے یا انتظامیہ سے بحث و تکرار بھی کرتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ تشدد میں ملوث رہنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے مکانات اور عمارتوں کو بلڈوزر سے زمین بوس کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا ہے لیکن جہاں کہیں اپوزیشن کی حکومتیں ہیں وہاں خود بی جے پی کارکن تشدد برپا کرنے سے گریز نہیں کرتے اور بی جے پی کے قائدین جو دوسروں پر بلڈوزر چلانے کی وکالت کرتے ہیں اس معاملے میں خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔ گذشتہ دنوں کولکتہ میں جس طرح سے بی جے پی کارکنوں نے تشدد برپا کیا اور پولیس کی ایک گاڑی کو نذر آتش کردیا اس پر بی جے پی کا کوئی لیڈر ان کارکنوں کے خلاف بلڈوزر استعمال کرنے کی بات نہیںکر رہا ہے ۔ یہ ان کے دوہرے معیارات کا ثبوت ہے ۔ تشدد چاہے کسی گوشے سے برپا کیا جائے اس کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا اور یہ قابل مذمت ہی ہوتا ہے ۔ اس پر سیاسی وابستگی کا خیال کئے بغیر سبھی کو مذمت کرنے اور اس کی حوصلہ شکنی کرنے کی ضرورت ہے ۔
