چیف منسٹر کے سی آر کو مکتوب ، غلطی کی اصلاح نہ ہونے پر ہائیکورٹ سے رجوع ہوں گے
حیدرآباد ۔18 ۔ نومبر (سیاست نیوز) قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے سرکاری ملازمتوں میں مسلم تحفظات کو چار فیصد سے گھٹاکر تین فیصد کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کو روانہ کردہ مکتوب اور تقررات کے سلسلہ میں حکومت کے روسٹر سسٹم کی تفصیلات جاری کیں جس میں بی سی ای زمرہ کے تحفظات کو تین فیصد درج کیا گیا ہے ۔ حالانکہ ریاست میں بی سی ای طبقہ کو 4 فیصد تحفظات حاصل ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت نے حال ہی میں احکامات جاری کرتے ہوئے ڈائرکٹ رکروٹمنٹ میں روسٹر پوائنٹس جاری کئے ۔ نئے روسٹر میں مسلمانوں کے ساتھ کی گئی نا انصافی پر انہوں نے چیف منسٹر سے وضاحت طلب کی ہے ۔ انہوں نے مکتوب میں لکھا کہ بی سی ای زمرہ کے تحت جن 14 سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ گروپس کو شامل کیا گیا ، ان میں مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں 2004-05 ء سے 4 فیصد تحفظات حاصل ہے۔ ہائی کورٹ کی ہدایت پر تحفظات کو 5 سے گھٹاکر 4 فیصد کیا گیا ہے ۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے۔ سپریم کورٹ نے مارچ 2010 ء میں مقدمہ کے قطعی فیصلہ تک چار فیصد تحفظات جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور روزگار میں مسلمانوں کیلئے 4 فیصد تحفظات پر عمل کیا جانا چاہئے ۔ نئے روسٹر میں 3 فیصد درج کیا گیا ہے جو سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ چیف منسٹر کو چاہئے کہ وہ فوری اس معاملہ میں مداخلت کرتے ہوئے غلطی کو درست کریں۔ محمد علی شبیر نے اس غلطی کے ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے مسلمانوں سے 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا لیکن 8 برس گزرنے کے باوجود وعدہ پر عمل نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت غلطی کی اصلاح نہیں کرتی تو کانگریس پارٹی ہائیکورٹ سے رجوع ہوگی۔ر