مہاراشٹرا کے 10 لاکھ کسانوں کو قرضوں کی معافی کیلئے اقدامات کا آغاز
ممبئی۔ 3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر مہاراشٹرا ادھو ٹھاکرے نے آج واضح کیا کہ مسلم تحفظات کی فراہمی کیلئے مہاراشٹرا حکومت کے سامنے کوئی تجویز زیرغور نہیں ہے۔ چیف منسٹر کا یہ بیان وزیر اقلیتی اُمور اور این سی پی قائد نواب ملک کے اُس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ مہاراشٹرا کی مخلوط حکومت بہت جلد مسلمانوں کو تعلیمی اداروں میں 5 فیصد تحفظات فراہم کرنے کیلئے قانون سازی کرے گی۔ اس اعلان کے بعد اپوزیشن جماعتیں اور وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے شدید اعتراض کرتے ہوئے ٹھاکرے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ این سی پی قائد نے مزید کہا تھا کہ اس حوالے سے قانون ساز اسمبلی میں جلد ہی قانون سازی کی جائے گی، تاہم آج جنوبی ممبئی کے ودھان بھون میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے واضح کردیا کہ مسلم تحفظات کے حوالے سے ایسی کوئی تجویز پر ان کے سامنے نہیں پیش کی گئی ہے۔ اگر اس سلسلے میں کوئی تجویز پیش کی جاتی ہے تو مناسب وقت پر اس سے متعلق کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلہ پر غیرضروری شور شرابہ بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ میں ان تمام تنظیموں اور جماعتوں پر زور دے کر کہنا چاہتا ہوں کہ اس بارے میں فی الحال ہماری حکومت کے پاس ایسی کوئی تجویز زیرغور نہیں ہے۔ رشمی ٹھاکرے کی شیوسینا کے ترجمان ’’سامنا‘‘ کی ایڈیٹر کی حیثیت سے تقرر کے سوال پر ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ جب غیرمتوقع طور پر انہیں وزارت اعلیٰ کا عہدہ حاصل ہوا تو ان کے سامنے ایڈیٹرشپ چھوڑنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’سامنا ‘‘ اور شیوسینا کو علیحدہ علیحدہ نہیں دیکھا جاسکتا۔ دونوں ایک خاندان کی طرح ہیں۔ رشمی ٹھاکرے کی ایڈیٹر کی حیثیت سے تقرر کے بعد یہ قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ ’’سامنا‘‘ کے زبان و بیان میں تبدیلیاں آئیں گی تاہم انہوں نے ایسے کسی اقدام سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ’’سامنا ‘‘ کا زبان و بیان پہلے کی طرح برقرار رہے گا اور ایڈیٹوریل کی ذمہ داری سابق کی طرح سنجے راوت ہی نبھاتے رہیں گے اور ادارتی آزادی بھی پہلے ہی کی طرح جاری رہے گی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ 7 مارچ کو وہ ایودھیا کیلئے روانہ ہورہے ہیں جہاں وہ لارڈ رام کی پوجا کریں گے۔ کسانوں کو حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی قرض فراہمی سے متعلق سوالات پر انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے پہلے ہی کسانوں کو 2 لاکھ روپئے تک قرض فراہم کررہی ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے مزید کہا کہ انہیں کسانوں کو قرض سے استثنیٰ فراہم کیا جائے گا جن کے بینک اکاؤنٹ آدھار کارڈس سے لنک رہیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 10 لاکھ سے زائد کسانوں کو اس سلسلے میں جوڑ لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مہاراشٹرا کی مخلوط حکومت نے ایک مقررہ مدت کے اندر ریاست کے کسانوں کو قرض سے استثنیٰ کی اسکیم شروع کرنے جارہی ہے جس سے 10 لاکھ سے زائد کسانوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کسانوں پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے تاکہ ریاستی کسان کو قرضوں سے چھٹکارہ حاصل ہو اور وہ ایک خوشحال زندگی بسر کرسکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 10 لاکھ تصدیق شدہ کسانوں میں سے 7.5 لاکھ کے اکاؤنٹس میں رقم منتقل کردی گئی ہے۔
