پی ایف آئی کے بعد مہاراشٹرا میں رضا اکیڈیمی نشانہ پر !
حیدرآباد۔ 4۔اکٹوبر(سیاست نیوز) ملک میں مخالف مسلم ماحول کی تیاری کے لئے کی جانے والی کوششوں کے دوران مسلم تنظیموں پر پابندی کے اقدامات مسلمانو ںکو کمزور ثابت کرنے کی کوشش کرنے کے مترادف ہیں۔پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندی کے بعد اب مہاراشٹرا کے علاوہ ملک کی مختلف ریاستوں میں موجود رضااکیڈیمی کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے اور مہاراشٹرا میں مہاراشٹرنونرمان سینانے رضا اکیڈیمی پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ شروع کردیا ہے اور اب رضااکیڈیمی کے خلاف ماحول سازی کی جانے لگی ہے۔ ہندستان میں مسلم تنظیموں کے خلاف نام نہاد مسلمانوں کو استعمال کرنے کے بعد ان کے صفائے کے اقدامات کئے جائیں گے اس بات کے خدشات سے بارہا مطلع کیا جاتا رہا ہے لیکن اس کے باوجود مسلم معاشرہ میں مسلکی اور دیگر معاملات پر اختلافات کو ہوا دیتے ہوئے ایسے لوگوں کا مسلسل استعمال کیا جاتا رہا ہے ۔ ڈاکٹر ذاکر نائک کے خلاف سرگرم جدوجہد کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمات درج کروانے میں اہم کردار ادا کرنے والی رضا اکیڈیمی پر اب خطرہ کے بادل منڈلانے لگے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ راج ٹھاکرے کی ایم این ایس نے مہاراشٹرا میں آزاد میدان ہنگامہ آرائی کے بعد جو مطالبہ شروع کیا تھا اس میں شدت پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں ریاستی ومرکزی حکومت سے نمائندگی کی جا رہی ہے ۔ ملک میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پابندی عائد کرنے کے لئے جن مسلم نما چہروں کا استعمال کیا گیا انہیں بھی اب چوکنا رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ ذاکر نائک کے خلاف جن لوگوں کو استعمال کیا گیا تھا اب انہیں نشانہ بنانے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں اور چند ماہ بعد ان لوگوں کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے جو پاپولر فرنٹ آف انڈیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لئے مسلسل نمائندگیاں کرتے رہے ہیں۔ پی ایف آئی پر پابندی کے بعد اب رضا اکیڈیمی پر پابندی کے سلسلہ میں کئے جانے والے مطالبات کے متعلق مفکرین کا کہناہے کہ مخالف مسلم قوتیں مسلمانوں کو خانوں میں تقسیم کرتے ہوئے انہیں کچلنے کی کوشش کر رہی ہیں اور جو لوگ مسلم تنظیموں پر پابندی کے ذریعہ مسلمانوں کی اجتماعیت کو نشانہ بنا رہے ہیں وہ دراصل اپنے مقصد کے حصول کے لئے مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لئے ان کے اپنے درمیان رہنے والوں کا سہارالے رہے ہیں اور ان کی مدد کرنے والوں کو اپنے مفادات کے علاوہ کوئی اور شئے عزیز نہیں ہے جبکہ وہ ملت کے اجتماعی نقصان کا سبب بن رہے ہیں۔م