عام انتخابات 2024 کیلئے آرایس ایس کی نئی حکمت عملی کا آغاز،اقلیتوں کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کا منصوبہ
نئی دہلی: لوک سبھا چناؤ 2024 میں مرکزی اقتدار میں استحکام کیلئے بی جے پی کی کوشش یہ ہیکہ کسی طرح اقلیتوں کے ووٹوں کو تقسیم کردیا جائے اور تیسری مرتبہ اقتدار میں واپسی کی جائے۔ یوم جمہوریہ کی پریڈ میں جھانکیوں کے ذریعہ ایک مخصوص مذہب کی تشہیر اور مصر کے صدر کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کرنا اسی سلسلہ کی کڑی نظر آتے ہیں۔ ایک طرف وزیراعظم پسماندہ مسلمانوں کی بات کرتے نظر آرہے ہیں ،تو دوسری طرف آر ایس ایس کی جانب سے مسلم رہنماؤں سے ملاقاتیں کی جا رہی ہیں۔خبر ہیکہ مسلم مفکرین اور علماء کے ایک وفد نے حال ہی میں آر ایس ایس کے ذمہ داروں سے ملاقات کی ہے۔ مسلم وفد کی جانب سے اس طرح خاموشی سے کی گئی دوسری ملاقات ہے۔ یہ ملاقات گزشتہ 14 جنوری کو ہوئی اور حاضرین کے درمیان 3 گھنٹے تک بات چیت ہوئی۔ اس تعلق سے مسلمانوں میں بے چینی پائی جارہی ہے کیونکہ نہ تو اس ملاقات سے پہلے اور نہ ہی بعد میں وفد کے کسی رکن کی جانب سے عوامی طور پر کوئی تفصیل دی گئی۔ بتایا گیا ہیکہ اس ملاقات کے دوران آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے حال ہی میں دیئے گئے انٹرویو، وارانسی کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد تنازعات، گاؤکشی، ماب لنچنگ، دونوں فرقوں کی جانب سے متنازعہ بیانات اور لفظ’’ کافر‘‘ کے عدم استعمال کے سلسلہ میں بات چیت کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس ملاقات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پہلے باہمی ہم آہنگی والے موضوعات پر پیشقدمی کی جائے گی اور جلد ہی دونوں فریقین پھر سے ملاقات کریں گے۔ واضح ہو کہ یہ ملاقات دہلی کے دریا گنج میں دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کی رہائش پر ہوئی، جس میںآر ایس ایس کی جانب سے کرشن گوپال، رام لال اور اندریش کمارجیسے عہدیداروں نے شرکت کی۔