حالت ابتر ، حقیقی اسباب کے حل پر توجہ ضروری ، محبوب نگر میں ایمان کمیٹی کا اجلاس ، مقررین کا خطاب
محبوب نگر ۔ آج ملک میں زبردست مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے ۔ دوسری طرف ہماری شادیاں مہنگی اور مشکل ترین ہوتی جارہی ہیں ۔ لڑکی والے شادی کے اخراجات کا بوجھ برداشت کرنے سے قاصر ہیں جبکہ مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ راہ فرار اختیار کر رہی ہیں۔ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ ایمان کمیٹی محبوب نگر کے بانی و صدر محمد سلیم نے راؤنڈ ٹیبل اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے ان حقائق کو سامنے رکھا ۔ انہوں نے انتہائی افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بعض مذہبی رہنماؤں نے ان واقعات پر لب کشائی کی ہمت تو کی لیکن لڑکی کے کردار اور والدین کی تربیت پر سوال اٹھانے اور اپنی خاموشی اور ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں لڑکیوں کے والدین پر شادی کے اخراجات کا جو بوجھ ہے اگر ایسا ہی رہا تو وہ دن بھی بہت قریب ہے جب ہماری لڑکیاں بڑی تعداد میں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ بھاگتے ہوئے اپنے مذہب سے پھر جائیں گی ۔ جس کی ذمہ داری ہم سب پر ہوگی ۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے تو حالات یقیناً ابتر ہونے والے ہیں ۔ لڑکیوں کے کردار اور تربیت کو نام دیکر خاموش ہوجانا مجرمانہ خاموشی ہے بلکہ ہم کو ان واقعات کے حقیقی اسباب اور وجوہات کا پتہ لگاکر اس کو حل کرنا ہوگا ۔ اجلاس سے بابر شیخ نے بھی مخاطب کیا ۔ اس موقع پر سید غوث حسین ، جنید شریف ، محمد فہیم ، عبدالمعید ، جہانگیر خان ، محمد اکرم ، ابراہیم خلیل اللہ ، عمران خان ، محمد اظہر ، شیخ رحیم ، محمد مستان ، محمد عبدالندیم و دیگر موجود تھے ۔
