مسلم نمائندوں کی کے ٹی آر سے ملاقات ، تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال

   

فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینے کی حکمت عملی ، بی آر ایس کے قائدین محمد سلیم اور شیخ عبداللہ سہیل بھی موجود
حیدرآباد 30 اپریل ( سیاست نیوز ) : ریاست میں جیسے جیسے انتخابی مہم عروج پر پہونچ رہی ہے مختلف پارٹیوں کے قائدین عوام و سماج کے مختلف طبقات سے ملاقات کرکے اپنی پارٹیوں و امیدواروں کے حق میں ماحول سازگار بنا رہے ہیں ۔ بی آر ایس ورکنگ صدر کے ٹی آر نے سکندرآباد اور ملکاجگیری حلقوں کے مختلف مذہبی تنظیموں ، سماجی تنظیموں اور جہدکاروں سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں سابق رکن قانون ساز کونسل محمد سلیم اور بی آر ایس کے قائد شیخ عبداللہ سہیل و دیگر موجود تھے۔ کے ٹی آر نے مسلم شخصیتوں سے ملاقات کرکے تازہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ فرقہ پرست بی جے پی اور وعدوں سے انحراف کرنے والی کانگریس کو سبق سکھانے اور بی آر ایس کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ۔ بی آر ایس قائد سابق صدر نشین وقف بورڈ حج کمیٹی محمد سلیم نے کہا کہ ملک اور دستور خطرہ میں ہے ۔ مسلمانوں کو متحد ہونے اور بی آر ایس کو کامیاب بنانے کا وقت آگیا ہے ۔ بی آر ایس واحد جماعت ہے جو حالات کا بخوبی سامنا کرتی ہے اور فرقہ پرستوں کو منھ توڑ جواب دے سکتی ہے ۔ بی آر ایس قائد شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس حکومت قائم ہونے کے بعد غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی حکومت کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے ۔ عوام میں ناراضگی ہے ۔ لوک سبھا انتخابات ملک کیلئے کافی اہم ہیں ۔ بی جے پی اپنے 10 سالہ حکومت کی کارکردگی پر عوام سے ووٹ مانگنے کے بجائے فرقہ پرستی ، نفرت کو فروغ دے رہی ہے ۔ ایسے میں تلنگانہ کے مسلمان امید بھری نظروں سے بی آر ایس کی طرف دیکھ رہی ہیں ۔ چند مسلم و مذہبی تنظیموں کے نمائندوں نے بی آر ایس ورکنگ صدر کے ٹی آر سے ملاقات کی ہے اور بی آر ایس کی تائید کرنے کا یقین دلایا ہے ۔ کے ٹی آر نے بھی ان مسلم نمائندوں سے تفصیلی بات کی ۔ بی آر ایس حکومت کی 10 سالہ کارکردگی ، لا اینڈ آڈر کی برقراری اور ساتھ اقلیتوں کی ترقی اور بہبود کے اقدامات پر روشنی ڈالی ہے ۔ جس پر ان مسلم نمائندوں نے اپنے ووٹوں کو تقسیم نہ ہونے کا کے ٹی آر کو یقین دلایا ہے ۔۔ 2