مسلم نوجوانوں کو شدت پسندی پر اکسانا ملک کیلئے بڑا چیلنج

   

پاپولر فرنٹ آف انڈیا، سیمی و دیگر تنظیمیں موردالزام، ڈی جی پی کانفرنس کا انعقاد

حیدرآباد۔24۔ جنوری (سیاست نیوز) ملک کے ڈائرکٹر جنرلس آف پولیس کانفرنس جس کی صدارت نریندر مودی نے کی ، اسے سینئر آئی پی ایس عہدیداروں نے واقف کروایا کہ ملک میں مسلم نوجوانوں کی شدت پسندی ایک چیلنج ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے مسلم قائدین اور علماء کا اعتماد حاصل کرنا ضروری ہے ۔ نئی دہلی میں منعقدہ حالیہ کانفرنس میں پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک میں مذہبی انتہا پسندی عروج کو پہنچ گئی اور اس کی وجہ ذہن سازی ہے۔ شدت پسندی میں اضافہ کا سبب عصری ٹکنالوجی اور سرحد پار دہشت گرد تنظیموں کی مدد حاصل ہونا ہے۔ سہ روزہ کانفرنس میں وزیراعظم، وزیر داخلہ امیت شاہ اور قومی سلامتی مشیر اجیت دوول نیز 350 اعلیٰ پولیس عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔ اس اجلاس میں بتایا گیا کہ مسلم نوجوانوں کی شدت پسندی ملک کی سلامتی کیلئے اہم چیلنج بن گیا ہے ۔ کئی مسلم انتہا پسند تنظیمیں ہندوستان میں سرگرم ہیں اور مسلم نوجوانوں کو شدت پسندی کیلئے راغب کر رہی ہیں۔ پولیس حکام نے واقف کروایا کہ موجودہ صورتحال میں شدت پسند تنظیموں پر قابو پانا ملک کی سلامتی کیلئے اہم نکتہ ہے۔ بعض تنظیمیں مسلم نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ احساس پیدا کررہے ہیں کہ وہ اس ملک میں متاثرہ افراد ہیں۔ اس اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا ہیکہ مسلم نوجوانوں کی شدت پسندی اور ان کی ذہن سازی میں ممنوعہ تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا ، اسٹوڈنٹ اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) ، وحدت اسلامی ، اسلامی یوتھ فیڈریشن ، حسب التحریک اور الامہ بھی شامل ہیں۔اس اجلاس میں آئی پی ایس عہدیداروں نے یہ واضح کیا کہ پڑوسی ملک چائنا ہندوستان کو پیچھے ڈھکیلنے میں مصروف ہے اور اس کی سرگرمیاں وسیع ہوگئی ہیں۔ قرض فراہم کرنے کے نام پر ساؤتھ ایسٹ اور ساؤتھ ایشیا میں بیجنگ غریب ممالک کا استحصال کر رہا ہے ۔ ب