اضلاع میں مجلسی قائدین میں ناراضگی، بی آر ایس امیدواروں میں بے چینی، مسلم ووٹ اہمیت کے حامل
حیدرآباد ۔8۔نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی چناؤ میں مسلم ووٹ سے محرومی کا خطرہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ان کے ساتھیوں کو پارٹی کی کامیابی کی راہ میں اہم رکاوٹ دکھائی دے رہا ہے۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ میں مسلم رائے دہندوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے پارٹی کی سطح پر جو حکمت عملی تیار کی تھی ، وہ کارگر ثابت نہیں ہوئی کیونکہ بی آر ایس سے تعلق رکھنے والے مسلم عوامی نمائندے اور قائدین مسلمانوں کو پارٹی کے قریب برقرار رکھنے میں ناکام ثابت ہوئے۔ بی آر ایس کے مسلم قائدین سے مایوسی کے بعد کے سی آر نے اپنی حلیف جماعت مجلس کی قیادت سے مدد مانگی ہے اور ریاست گیر سطح پر مسلمانوں سے تائید حاصل کرنے کیلئے مہم چلانے کی ترغیب دی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کے سی آر کا ماننا ہے کہ پارٹی کے اقلیتی قائدین مسلمانوں میں پھیلی بے چینی اور ناراضگی دور کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ گزشتہ 9 برسوں کے دوران کئی اقلیتی قائدین کو اہم سرکاری عہدوں پر فائز کیا گیا لیکن سوائے عہدوں سے ذاتی فائدے کے علاوہ انہوں نے پارٹی کے فائدہ کیلئے کچھ نہیں کیا۔ بی آر ایس جو تیسری مرتبہ کامیابی کی جدوجہد کر رہی ہے ، اسے مسلم رائے دہندوں کی تائید کے سواء کوئی چارہ نہیں۔ بی آر ایس کے حلیف مجلس نے اقلیتوں کی قابل لحاظ آبادی والے حلقہ جات سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس سلسلہ میں مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ضلعی قائدین سے مشاورت کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 15 اسمبلی حلقہ جات سے مقابلہ کی حکمت عملی تیار کی گئی اور یہ حلقہ جات حیدرآباد کے علاوہ کریم نگر ، نرمل ، عادل آباد اور محبوب نگر کے اضلاع میں شامل ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر نے جب یہ محسوس کرلیا کہ مسلم رائے دہندے بی آر ایس سے دور ہورہے ہیں تو انہوں نے حلیف جماعت کی خدمات حاصل کرتے ہوئے انہیں اضلاع میں مقابلہ کرنے سے روک دیا۔ مجلس کے مقابلہ کی صورت میں مسلم ووٹ تقسیم ہوسکتے تھے جس کا فائدہ کانگریس کو پہنچنے کا امکان تھا، لہذا مسلم ووٹ کو بی آر ایس کی طرف موڑنے کیلئے مجلسی قیادت کو ذمہ داری دی گئی۔ بتایا جاتاہے کہ اسی حکمت عملی کے تحت صدر مجلس نے مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے بی آر ایس کی کھل کر تائید کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مجلس اضلاع میں الیکشن نہیں لڑ رہی ہے تو پھر اسے انتخابی جلسوں سے کیا دلچسپی۔ ظہیر آباد اور سنگا ریڈی میں صدر مجلس اسد اویسی نے بی آر ایس کے حق میں عام جلسوں سے خطاب کیا۔ وہ حیدرآباد میں پارٹی کے انتخابی جلسوں میں بی آر ایس کی کھل کر تائید کر رہے ہیں اور کانگریس اور بی جے پی کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق بی آر ایس کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے قائدین چاہتے ہیں کہ مجلسی قیادت کی مدد حاصل کرنے کے بجائے چیف منسٹر خود مسلمانوں کیلئے کسی علحدہ پیاکیج کا اعلان کریں تاکہ مسلمان بی آر ایس کے قریب آئیں۔ اضلاع کے قائدین کو اندیشہ ہے کہ مجلسی قیادت کے دورہ اضلاع سے بی جے پی کو فائدہ ہوگا۔ بیشتر اضلاع میں بی آر ایس کے امیدوار مسلمانوں کی ناراضگی اور دوری کو شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی کے حق میں مسلم رائے دہندوں کے رجحان نے بی آر ایس قیادت کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ چیف منسٹر انتخابی ریالیوں کے دوران اردو زبان میں خطاب کرتے ہوئے مسلم رائے دہندوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن زمینی سطح پر صورتحال میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔ دیکھنا یہ ہے کہ مسلمانوں کی تائید کیلئے مجلسی قیادت کی مساعی اور صدر مجلس کے دورے بی آر ایس کے لئے کس حد تک فائدہ مند ہوں گے۔ دوسری طرف اضلاع میں مجلس کے قائدین انتخابات میں حصہ نہ لینے کے فیصلہ سے ناراض ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ نظام آباد ، کریم نگر ، بھینسہ ، نرمل ، عادل آباد اور محبوب نگر کے مقامی مجلسی قائدین نے اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا ۔ قیادت کے تازہ ترین فیصلہ سے اضلاع میں مجلسی قائدین مایوس ہیں اور وہ بی آر ایس کے حق میں مہم چلانے کیلئے تیار نہیں۔ مجلس نے اگرچہ اضلاع میں بی آر ایس امیدواروں کی تائید کی ہے لیکن امیدواروں کو مقامی مجلسی قائدین کا تعاون حاصل ہونا ممکن نہیں۔