نئی دہلی 16 اپریل ( ایجنسیز ) سپریم کورٹ نے آج مفاد عامہ کی ایک درخواست پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے جس میں مسلم پرسنل لا ( شریعت ) اپلیکیشن ایکٹ 1937 کے مختلف دفعات کی دستوری حیثیت پر سوال کیا گیا تھا ۔ درخواست میں ادعا کیا گیا ہے کہ کچھ دفعات خواتین کے خلاف امتیاز برتتے ہیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وپل ایم پنچول پر مشتمل ایک بنچ نے درخواست گذاروں کے وکیل پرشانت بھوشن کی بحث کا نوٹ لیا اور مرکزی وزارت اقلیتی امور کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ موجودہ شرعی ورثات قوانین در اصل خواتین کے خلاف امتیاز برتتے ہیں اور انہیں وراثت میں مردوں سے نصف یا اس سے بھی کم حصہ دیا جاتا ہے ۔ پرشانت بھوشن نے کہا کہ 1937 کا یہ قانون دستور کے دفعہ 14 کی نفی کرتا ہے جو حق مساوات سے متعلق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وراثت ایک سیول مسئلہ ہے اور اس میں مذہبی عمل ضروری نہیں ہے ۔