کچھ قفس میں ان دنوں لگتا ہے جی
آشیاں میرا ہوا برباد کیا
مشرق وسطی میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کا اب ایک نیا محاذ کھل گیا ہے ۔ اسرائیل کی جانب سے جب کبھی کوئی نئی حکمت عملی بناتے ہوئے ایران کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور حملے کئے جا رہے ہیں اس کا ایران کی جانب سے ایسا جواب دیا جا رہا ہے جس کے اثرات ساری دنیا پر مرتب ہونے لگ رہے ہیں۔ اس جنگ نے پہلے ہی بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے اور ساری دنیا میں ایک طرح سے اتھل پتھل شروع ہوگئی ہے ۔ دنیا بھر کی معیشت اس جنگ کی وجہ سے تباہی کے قریب پہونچ رہی ہے ۔ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے جب ایران پر جنگ مسلط کی گئی اور ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کیا گیا تو ایران نے اپنے حواس قابو میں رکھے اور اس نے علاقہ میں امرکی و اسرائیلی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے جنگ کا رخ بدلنے کی کوشش کی ۔ ایران نے چھوٹے ڈرونس سے حملے کرتے ہوئے اپنی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا ۔ امریکہ اور اسرائیل کی یہ امید پوری نہیںہو پائی تھی کہ ایران آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد گھٹنے ٹیک دے گا اور ہتھیار ڈال دے گا ۔ یہی وجہ رہی کہ اسرائیل نے ایک نیا منصوبہ بناتے ہوئے ایران کی اعلی قیادت کو نشانہ بنانا شروع کیا ۔ ایران کے سکیوریٹی سربراہ علی لاری جانی کو بھی شہید کردیا گیا ۔ اس کے علاوہ کئی فوجی جنرلس کو بھی اس نے اپنے ہلاکت خیز حملوں کا نشانہ بنایا ۔ اس سے بھی اسرائیل نے امید باندھ لی تھی کہ ایران کے حواس باختہ ہوجائیں گے اور ایران ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوجائے گا ۔ تاہم ایران نے یہاں بھی صیہونی اسرائیل اور امریکہ کو مایوس ہی کیا اور اس نے توانائی اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے ایک نئے محاذ کو کھول دیا ہے ۔ ایران کے جنوب میں گیس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا ۔ ایران نے بھی قطر میں دنیا کے سب سے بڑی گیس ہب کو اپنے حملے کا نشانہ بنادیا ہے ۔ ایران کی اس حکمت عملی کا دنیا بھر میں گیس کی سپلائی پر اثر ہونا یقینی بتایا جا رہا ہے ۔ یہی وجہ رہی کہ ایران کی اس کارروائی کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اب مزید کسی گیس ٹھکانے پر حملہ نہیں کرے گا ۔
حالانکہ یہ اعلان اسرائیل کو کرنا چاہئے تھا تاہم اسرائیل اپنی جارحیت کو پوری شدت کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ سارے علاقہ میں تباہی کی وجہ بن رہا ہے ۔ ایران کی جانب سے قطر میں کئے گئے حملے کے بعد امریکی صدر ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے خود اعلان کیا کہ اب اسرائیل کی جانب سے ایران کی گیس تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور ایران کو بھی اس طرح کے حملوں سے گریز کرنا چاہئے ۔ اس طرح سے جنگ میں ایک نیا محاذ شروع ہوا ہے جس کے بعد امریکہ کو اسرائیل کو قابو میں کرنے کیلئے مجبور ہونا پڑا ہے ۔ گیس تنصیبات پر حملہ ساری دنیا پر اثر انداز ہوسکتا ہے ۔ اس حملے کے بعد دنیا بھر میں خام تیل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ ہوگیا ہے اور گیس کی سپلائی متاثر ہونے کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں اسٹاک مارکٹوں میں اتھل پتھل مچ گئی ہے ۔ خاص طور پر ایشیائی اسٹاک مارکٹس میں بھاری نقصانات ہونے لگے ہیں اور سرمایہ کاروں کو اپنی بھاری رقومات سے محروم ہونا پڑ رہا ہے ۔ جنگ کا یہ ایسا پہلو ہے جو ایران سے زیادہ دنیا کے دوسرے ممالک پر اثر انداز ہو گا اور اس کی وجہ سے کئی ممالک کو مسائل درپیش ہوسکتے ہیں اور یہ مسائل پیدا ہونے لگے ہیں۔ اس جانب امریکہ اور دوسرے ممالک کو توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ جو جنگ اسرائیل کی وجہ سے شروع ہوئی ہے اس کا خمیازہ دنیا کے کئی ممالک کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
دنیا کے بیشتر ممالک اس جنگ پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ان کی خاموشی کی وجوہات چاہے جو کچھ بھی ہوں لیکن یہ ضرور ہے کہ ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ جنگ کو ختم کرنے اور اسرائیل و امریکہ کو اپنی جارحیت روکنے کی تلقین کریں۔ جنگ کے تیسرے ہفتے میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں وہ صرف مشرق وسطی یا ایران تک محدود نہیں رہ گئے ہیں ۔ اب اس کے اثرات ساری دنیا پر مرتب ہونے لگے ہیں ۔ دنیا کو اپنی خاموشی توڑتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کو اس جنگ کے خاتمہ کیلئے مجبور کرنا چاہئے ۔ بصورت دیگر اس کے جو اثرات ہونگے وہ ساری دنیا پر انتہائی شدید بھی ہوسکتے ہیں۔